کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 319

فلاں شخص مراد ہے اور فلاں فلاں کتابوں میں اس کے حالات واوصاف مقبولہ کا بیان موجود ہے اسکے بعد اس روایت کو حجت میں پیش کرتے،لیکن ان کا مقصد تو محض ’’دلیلوں‘‘ کی گنتی بڑھاکر عوام کو مغالطہ دینا ہے۔اس لیے وہ اس معقول طریقہ کو کیوں اختیار کرتے۔ قولہ : علاوہ بریں حضرت علی رضی اللہ عنہ نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ان آثار کے صحیح ہونے کی اور اس بات کی کہ ان حضرات سے بیس رکعت کا حکم بے شک وشبہ ثابت ہے۔ایک پُر زور شہادت یہ بھی ہے کہ فنِ حدیث کے مسلم الثبوت امام ابو عیسیٰ ترمذی میں فرمایا ہے کہ واکثر اہل العلم علی ما روی عن علی وعمرو وغیرہما من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم عشرین رکعۃ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیے امام ترمذی بھی حضرات مذکورہ بالا سے بیس رکعت کے ثبوت کو بے تامل تسلیم کرتے ہیں۔ کیا ان حضرات سے بیس رکعت کی روایتیں نا قابل اعتبار ہوتیں توامام ترمذی ان کا اس طرح ذکر نہ کرتے؟ہرگزنہیں۔سوچنے کی بات ہے کہ روایت کے صحت وسقم کا علم یا ان کے نقدکا سلیقہ امام ترمذی کو زیادہ حاصل ہے۔ یا حافظ عبداللہ صاحب اور مولانا عبدالرحمٰن کو۔؟ (رکعات ص ۸۳ ) ج : شاید مولانا مئوی کو یا د نہیں رہا کہ انہوں نے بیس رکعت پر عمل کی سب سے پہلی دلیل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت کو قرار دیا ہے جو ابو شیبہ کی طریق سے مر وی ہے اور ابو شیبہ پر محدثین نے جو جرحیں کی ہیں ۔ ان سب کا اپنے زعم میں جواب دیا ہے یہ نہ سوچا کہ اس روایت کے صحیح نہ ہونے کی اور اس بات کی کہ یہ روایت بے شک وشبہ ناقابل اعتبار اور استدلال کے موقعہ پر نا قابل ذکر ہے۔ ایک پر زور شہادت یہ بھی ہے کہ فنِ حدیث کے مسلم الثبوت امام ابو

  • فونٹ سائز:

    ب ب