کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 32
(۴) طحطاوی نے بھی شرح در مختار میں یہی لکھا ہے جس کا حوالہ پہلے گزر چکا (۵) امداد الفتاح میں ہے : قال الکمال کونہا عشرین رکعة سنة الخلفاء الراشدین والذی فعلہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالجماعة احدی عشرة بالوتر ۔ (مفاتیح لاسرار التراویح ص۹) (۶) نفحات رشیدی میں ہے : واختلفوا فی عدد رکعاتہا التی یقوم بہا الناس فی رمضان ما المختار منہا اذ لا نص فیہا فاختار بعضہم عشرین رکعة سوی الوتر واستحسن بعضہم ستا و ثلثین رکعة والوترثلث رکعات وہو الامر القدیم الذی کان علیہ الصدر الاول والذی اقول بہ فی ذالک ان لا توقیت فیہ فان کان لابد من الاقتدأ فالاقتداء برسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فی ذالک فانہ ثبت عنہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ ما زاد علی احدی عشرة رکعة بالوتر شیئا لا فی رمضان ولا فی غیرہ الا انہ کان یطولہا فہذا ہو الذی اختارہ للجمع بین قیام رمضان والاقتداء برسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قال اﷲ تعالیٰ لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوة حسنة انتہٰی (حوالہ مذکور و مسک الختام مترجم ص۲۸۸) یعنی تراویح کی رکعتوں کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس کی گنتی