کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 321

یعنی حضرت عمر اور حضرت علی اور حضرت عباس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنھم اور دوسرے صحابہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم لا نکاح الا بولی(کوئی نکاح بغیر ولی کے درست نہیں ) کی بنا پر اس بات کے قائل ہیں کہ کسی عورت کا نکاح ولی کے بغیر جائزنہیں ہے۔ (۳) امام ترمذی باب ماجاء فی التغلیس بالفجر کے ذیل میں حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: وهو الذی اختاره غیر واحد من اهل العلم من اصحاب النبی صلی الله وسلم منهم ابوبکر وعمر ومن بعدهم من التابعین (تر مذی ص۲۸/۱) یعنی طلوع فجر کے بعد اندھیرے ہی میں صبح کی نماز پڑھنے کو بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہ نے اختیار کیاہے۔ انہی میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ (۴)امام ترمذی باب ما جاء فی المسح علی الجوربین والعمامۃ کے ذیل میںحدیث روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں وهو قول غیر واحد من اهل العلم من اصحاب النبی صلی الله علیه وسلم منهم ابوبکر وعمروانس وبه یقول الاوزای واحمد واسحاق قالو یمسح علی العمامة۔ (ترمذی ص۲۰/۱) یعنی متعدد صحابہ اس بات کی قائل ہیں کہ عمامہ پر مسح کرنا جائز ہے۔ انہی میں سے

  • فونٹ سائز:

    ب ب