کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 323
صح عن عمر من قول او عمل وہذا عظیم فی الدین جدا انتہی. یعنی ان مقلدین جامدین کا حال یہ ہے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہر اس قول و عمل کو حجت نہیں مانتے جو ان سے صحیح طور پر ثابت ہیں بلکہ صرف ان باتوں کو تسلیم کرتے ہیں جو ان کی خواہش اور مرضی کے موافق ہوں ۔ دین کے معاملے میں یہ طریقہ بہت برا ہے ۔ بلکہ بربنائے حسن ظن یہ سمجھتے ہیں کہ ان روایات سے اختلاف کرنے کے کچھ قوی وجوہ اور دلائل آپ اپنے زعم میں رکھتے ہوں گے ۔ (خواہ فی الواقع وہ ضعیف اور نا قابل اعتبار ہی ہوں) ۔ تو بس اہلِ حدیث بھی تو یہی کرتے ہیں ۔ پھر ان کی باتوں میں آپ کو کیڑے کیوں نظر آتے ہیں ؟ اور ان کے مقابلے میں ’’فن حدیث کے مسلم الثبوت امام کی پرزور شہادت‘‘ پیش کرکے ذہنوں کو مرعوب کرنے اور ناواقفوں کو مغالطہ دینے کی فضول اور غلط کوشش کیوں کی جاتی ہے ؟ رہا امام ترمذی کا علی ما روی عن علی وعمر الخ فرمانا تو یہ صرف ان حضرات سے بیس رکعت کی بابت کسی قول یا عمل کے ’’مروی ہونے‘‘ کی شہادت ہے ، لیکن ظاہر ہے کہ محض ’’مروی‘‘ ہونے سے اس کا ’’صحیح ‘‘ اور ’’ثابت‘‘ ہونا لازم نہیں آتا ۔ یہ آپ کی خوش فہمی ہے کہ ’’روی‘‘ کے معنی ’’ثبت‘‘ اور ’’صَحَّ ‘‘ سمجھ رہے ہیں اگر یہ خیال ہے کہ اس ’’مروی‘‘ پر امام ترمذی کا سکوت فرمانا اس کی صحت کی دلیل ہے تو عرض یہ ہے کہ یہ تو آپ کا دعوی ہوا کیا اس دعوے پر آپ کے پاس کوئی دلیل بھی ہے ؟ امام ترمذی نے خود یا کسی حاذق فن محدث نے یہ لکھا ہے کہ امام ترمذی کا سکوت بھی روایت کی صحت کی دلیل ہے ؟