کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 325

لیکن یہ ان دونوں کا تساہل ہے ، کیونکہ اس میں بہت سی ضعیف حدیثیں بھی ہیں ‘‘ دیکھئے یہ فیصلہ ایک مسلم الثبوت اور ماہر فن محدث کا ترمذی کی ان روایتوں کی بابت ہے جو اس میں سند کے ساتھ مروی ہیں اور جن میں سے بعض کی نسبت امام ترمذی نے صحیح یا حسن ہونے کی تصریح بھی کر دی ہے تو بھلا کسی ایسی روایت کا کیا مقام ہو سکتا ہے جس کو امام ترمذی نے سنداً ذکر کیا ہو اور نہ اس کے صحیح یا حسن ہونے کی صراحت فرمائی ہو ؟ بلکہ صرف نقل مذاہب کے سلسلے میں اس کی طرف اشارہ کر دیا ہو اور اشارہ بھی ایسے لفظ ’’روی‘‘ کے ساتھ کیا ہو جو بجائے خود تضعیف و تمریض کا موہم ہو سکتا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ روایات کے صحت و سقم کا علم یا ان کے نقد کا سلیقہ حافظ شمس الدین ذہبی اور حافظ عماد الدین ابن کثیر کو زیادہ حاصل ہے یا مولانا حبیب الرحمن اعظمی کو ؟ ایک بات اور سنیئے ! اگر ’’ما روی عن علی و عمر‘‘ کہہ کر اس پر جرح نہ کرنا اس روایت کے صحیح اور بے شک و شبہ ثابت ہونے کی پرزور شہادت ہے تو کیا یہ بات آپ ان تمام روایات کے متعلق بھی کہیں گے جن کی طرف امام ترمذی فی الباب عن فلان و فلان کہہ کر اشارہ کرتے ہیں اور ان پر کوئی جرح نہیں کرتے کیونکہ اس کا مطلب بھی تو آخر یہی ہے کہ فی الباب ’’روی‘‘ عن فلان و فلان ؟ ۔ ظاہر ہے کہ فی الباب ’’روی‘‘ عن فلان و فلان کا یہ منشا ہر گز نہیں ہے ۔ بلکہ ’’مروی‘‘ ہیں ۔ رہا یہ کہ یہ ’’مروی‘‘ حدیثیں صحیح ہیں یا ضعیف ، ثابت ہیں یا غیر ثابت ؟ تو اس کی بابت اس میں کوئی ادنی اشارہ بھی نہیں ہوتا ۔ پس یہی مطلب ’’ماروی عن علی و عمر‘‘ کا بھی ہے یعنی صرف ’’مروی‘‘ ہونے کی شہادت ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ یہ روایت صحیح اور بے شک و شبہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب