کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 328

امام بخاری کی ایک جرح پر بحث کا جواب مولانا مئوی نے بیس رکعت کے ثبوت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جو اثر بروایت ابی عبدالرحمن سلمی پیش کیا ہے اس کا ایک راوی حماد بن شعیب ہے جو عطاء بن السائب سے روایت کرتا ہے ۔ حماد بن شعیب محدثین کے نزدیک مجروح راوی ہے ۔ اس کے جارحین میں امام بخاری علیہ الرحمہ بھی ہیں جنہوں نے اس کے حق میں ’’فیہ نظر‘‘ کہا ہے ۔ اصول حدیث کے علاوہ حنفیہ کی اصولِ فقہ کی کتابوں میں بھی اس لفظ کا شمار جرح ہی الفاظ میں کیا گیا ہے ، لیکن محدثین کسی راوی کی نسبت جو جرح و تعدیل کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو اس کے مختلف مراتب و درجات ہیں اور اسی اعتبار سے اس کے مختلف احکام ہیں ۔ شیخ ابن الہمام جو علماء احناف کے نزدیک بلند پایہ محدث بھی ہیں اور فقیہ بھی انہوں نے اپنی کتاب ’’التحریر‘‘ میں (جو حنفی اصول فقہ کی ایک مشہور اور معتبر کتاب ہے) امام بخاری کی اس جرح کو سخت جرحوں کے سلسلے میں شمار کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں : وفی الجرح کذاب ، و ضاع دجال ، یکذب ، هالک ، ثم ساقط ، متهم بالکذب ، والوضع ، ذاهب و متروك و منه للبخاری فیه نظر و سکنوا عنه ۔ لیس بثقة ، مامون ، ثم رووا حدیث ضعیف جداً ، واه بمرة طرحوا حدیثه ، مطرح ، ارم به لیس بشئی ، لا یساوی شیئا ففی هذه لا حجیة ولا استشهاد و لا اعتبار (التحریر مع شرح لابن الحاج ص ۲۴۸ ج ۲) یعنی جس روای کے حق میں جرح کے یہ لفظ استعمال کئے گئے ہو اس کی روایت حجت کے قابل ہوتی ہے اور نہ استشہار کے اور نہ اعتبار کے محدث مبارک پوری قدس سرہ نے تحفت الاحوذی میں شیخ ابن الہمام کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب