کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 331

اس کے علاوہ دوسری عرض یہ ہے کہ اس وقت حماد بن شعیب اور اس پر کی گئی جو جرح زیر بحث ہے اس کا تعلق علم حدیث کے فن جرح و تعدیل سے ہے اور کسی فن سے متعلق بحث میں اہل فن کے اقوال ہی سند ہوتے ہیں ۔ ان سے استناد و استشہاد تقلید نہیں ، عین تحقیق ہے ۔ اسی لئے محدث مبارک پوری علیہ الرحمہ نے ابکار المننن کے ص ۵۰ پر (جس کی طرف مولانا مئوی نے اشارہ کیا ہے) امام بخاری رحمہ اللہ کی اس جرح کی نسبت حافظ ذہبی وغیرہ ناقدین فن کے اقوال پیش کئے ہیں ۔ رواۃ کی جرح و تعدیل پر بحث کرنے کا معقول اور معبتر طریقہ یہی ہے اس کو تقلید کہنا محض مسخرا پن ہے ۔ اس طنز و تمسخر کے بعد مولانا مئوی نے تین باتیںپیش کی ہیں : (الف ) کتنے راوی ہیں جن کے حق میں امام بخاری رحمہ اللہ نے فیہ نظر کہا ہے ، مگر دوسرے ناقدین نے ان کو ثقہ قرار دیا ہے ۔ (ب) مصنفین صحاح نے ان کی حدیثیں اپنی کتابوں میں درج کی ہیں (ج) بعض حدیثوں کی تحسین بھی کی ہے ۔ اصل موضوع پر گفتگو کرنے سے مولانا مئوی کا گریز لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان ’’کتنے راویوں‘‘ میں حماد بن شعیب بھی ہے ؟ جو اس وقت زیر بحث اور گفتگو کا اصل موضوع ہے اگر ہے تو اس کی دلیلیں آپ پیش کرتے اور اگر نہیں ہے بلکہ وہ دوسرے ناقدین کے نزدیک بھی ضعیف اور مجروح و متروک ہی راوی ہے تو پھر انصاف و دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ کم از کم حماد بن شعیب کے متعلق تو تسلیم کر لیتے کہ بے شک اس کی روایت ناقابل احتجاج اور نا قابل اعتناء ہے ۔ اس کی نسبت امام بخاری کی جرح بھی صحیح ہے اور محدث مبارک پوری کا اعتراض بھی درست ہے ۔ اس کے بعد اگر اپ کو اپنی ’’شان محدثیت‘‘ اور

  • فونٹ سائز:

    ب ب