کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 336
فیہ ایضا انتہی الفاظ کے درجہ میں شمار کرنا خاص کر انہی کے اعتبار سے ہے اور اس کے ساتھ اس تعبیر میں چشم پوشی اور درگذر بھی ہے الرفع والتکمیل ص ۲۸ میں ہے : قول البخاری فی حق احد من الرواة فیہ نظر یدل علی انہ متہم عندہ ولا کذلک عنہ غیرہ انتہی امام بخاری رحمہ اللہ کا کسی راوی کے حق میں فیہ نظر کہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک متہم ہے اور دوسرے محدثین کے نزدیک ایسا نہیں ہے (۳) الباعث الحثیث للحافظ ابن کثیر طبع محمد علی صبیح مصر کے ص ۱۱۸ میں ہے البخاری اذا قال فی الرجل سکتوا عنہ او فیہ نظر فانہ یکون فی ادنی المنازل واردئہا عنہدہ ولکنہ لطیف العبارة فی التخریج انتہی امام بخاری جب کسی راوی کے بارے میں سکتوا عنہ یا فیہ نظر کہتے ہیں تو ان کے نزدیک وہ راوی بہت گرا ہوا اور خراب درجہ کا ہوتا ہے ، مگر جرح کرنے میں انہوں نے لطیف تعبیر سے کام لیا ہے ۔ (۴) حافظ تاج الدین سبکی کی طبقات الشافیہ جلد ثانی ص ۹ میں ہے : وقال بکر بن منیر سمعت البخاری یقول ارجوان القی اللہ بکر بن منیر کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے سنا ہے۔انہوں نے فرمایا