کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 338

منکر الحدیث علی من لا تحل الراویة عنه انتهی منکر الحدیث اس پر بولتے ہیں جس سے روایت کرنا حلال نہیں۔ حافظ سخاوی نے فتح المغیث میں الفاظ جرح کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ان کو چھ درجوں میں تقسیم کیاہے اس کے بعد ہر درجہ کا حکم ان لفظوںمیں ذکرکیا ہے۔ لکھتے ہیں: ان الحکم فی المراتب الا ربع من هذه الامراتب الست ان لا بحتج بواحد من حدیث اهلها ولا یستشهد به ولا بعتبر به وفی المرتبتین الاخریین ان یخرج حدیث اهلها للاعتبار انتهی۔ (ظفر الامانی ص ۳۵) الفاظ جرح کے ان چھ درجوں میں سے پہلے چار درجوں کا حکم تو یہ ہے کہ ان میں سے کسی راوی کی حدیث نہ حجت کے لائق ہوتی ہے اور نہ استشہاد کے اور نہ اعتبار (باصطلاح محدثین)کے اور پچھلے دونوں درجوں کے راویوں کی حدیث اعتبار (اصطلاحی )کے لائق ہوتی ہے۔ (۷)مولانا عبدالحئی لکھنوی نے ظفرالامانی میں فتح المغیث مذکور کے حوالہ سے الفاظ جرح کو مراتب ستہ کی تفصیلات کے ساتھ پورا نقل کر دیا ہے۔پھر مرتبہ سادسہ کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: ومنه قولهم تکلموا فیه او سکتوا عنه او فیه نظر عند غیرالبخاری واما عنده فهما داخلان فی المرتبة الرابعه کذاقیل انتهی (ظفر الامانی ص۳۴) یعنی امام بخاری کے علاوہ دوسرے محدثین کے نزدیک کسی راوی کی حق میں تکلموا فیه یا سکتو عنه یا فیه نظر کا شمار مرتبہ رابعہ میں ہے۔جیسا کہ محدثین

  • فونٹ سائز:

    ب ب