کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 341

سکتوا عنہ کہا ہے )بخاری کی ان جرحوں کی وجہ سی مردود ہی کیوں قرار دیدیا گیا ہے؟ ان دونوں کو بھی انہی ’’راویوں‘‘ میں شمار کیوں نہیں کیا گیا جن کے حق میں بخاری کی ان جرحوں کی نوعیت شدت کی نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں کے متعلق ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثات ہوتا ہے کہ یہ مذکورہ بالا راویوںمیں سے نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں ان راویوں میں سے ہیں جن کے حق میں امام بخاری رحمہ اللہ کی ان جرحوں کی نوعیت شدت ہی کی ہے۔ چنانچہ حمادبن شعیب کے متعلق ایک وجہ تو ابھی قریب ہی کے صفحات میں گذری ہے جس میں مولانا مئوی ہی کے کلام کی رو سے ہم نے ثابت کیا ہے کہ یقینا امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک یہ متروک اور مردود راوی ہے۔ رہے دوسرے ناقدین تو ان میں بھی کسی نے اسکی توثیق وتعدیل نہیں کی ہے۔بلکہ امام یحيٰ بن معین نے اس کی حق میں لابکتب حدیثہ کہا ہے(میزان ج۱ ص۲۷۹و لسان المیزان ج۲ ص ۳۴۸) یہ وہی یحيٰ بن معین ہیں جن کو مولانا مئوی نے اپنے مطلب کی موقع پر فن جرح وتعدیل کا امام لکھا ہے۔ (دیکھو رکعات ص ۲۷،۷۴)اور لا یکتب حدیثه کو حافظ سخاوی نے مرتبہ رابعہ کی الفاظ جرح میں ذکر کیا ہے (دیکھو ظفر الامانی ص۳۴) اور مرتبہ رابعہ کو بھی سخاوی نے ان مراتب میں شمار کیاہے جن کا حکم انہوں نے یہ بتایا ہے کہلا یحتج بواحد من حدیث اهلها ولا یستشهد به ولا یعتبر به اور حافظ زین الدین عراقی نے (جنہوں نے الفاظ جرح کے پانچ درجہ قائم کئے ہیں) لا یکتب حدیثه کو بحوالہ ابن ابی حاتم مرتبہ اولی کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے (اگرچہ ان کے نزدیک اس کا شمار مرتبہ ثانیہ کے الفاظ کے ضمن ہونا چاہیئے ) اس کے بعد مرتبہ اولی و ثانیہ و ثالثہ کے الفاظ کا حکم یہ بیان کیا ہے : وکل من قیل فیه من هذه المراتب الثلث لا یحتج بحدثه ولا یستشهد به ولا یعتبر به انتهی (فتح المغیث للعراقی جلد ۲ ص ۴۲)

  • فونٹ سائز:

    ب ب