کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 346

’’بلکہ ترمذی نے اس کی بعض حدیثوں کو حسن بھی کہا ہے اور حدیث حسن جیسا کہ ایک طالب علم بھی جانتا ہے قابل احتجاج ہوتی ہے ‘‘ رکعات ص ۷۵ ج : مگر شرط یہ ہے کہ وہ طالب علم آپ کا شاگرد نہ ہو ۔ ورنہ اس غریب کو کیا معلوم کہ امام ترمذی کی تحسین کے لئے یہ ضروری نہیں ہے وہ یہ بھی نہ جانتا ہو گا کہ امام ترمذی کی تحسین کی نسبت تو یہ مقولہ مشہور ہے : لا یغتر بتحسین الترمذی (امام ترمذی کی تحسین سے دھوکہ نہ کھانا چاہیئے ) تحسین تو الگ رہی بقول حافظ ذہبی امام ترمذی کی تو تصحیح پر بھی علماء اعتماد نہیں کرتے۔ لا یعتمد العلماء علی تصحیح الترمذی (ان دونوں عبارتوں کے حوالے پہلے گذر چکے ہیں ) شیخ ابن الہمام تک نے امام ترمذی کی تصحیح کو قبول نہیں کیا ہے ۔ چہ جائیکہ ترمذی کی تحسین قابل احتجاج ہو ؟ لکھتے ہیں : وحدیث النعلین وان صححه الترمذی فلیس بصحیح (فتح القدیر جلد ثانی ص ۴۳۶) یعنی وہ حدیث جس میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو صرف دو جوتوں کے مہر کے عوض میں نکاح کرنے کی اجازت دے دی تھی صحیح نہیں ہے اگرچہ ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے ۔ ہم یہ گمان نہیں کر سکتے کہ مولانا مئوی یہ نہ جانتے ہوں گے کہ بہت سی ایسی حدیثیں ہیں جن کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے ، مگر احناف ان کو قابل احتجاج نہیں مانتے ۔ مثلاً حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص مقتدیوں کو خطاب کرکے فرمایا : لا تفعلوا الا بام القرآن فانه لا صلوة لم یقرأ بها (ترمذی ص ۵۰ جلد ۱) یعنی جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی (اس لئے سورہ فاتحہ تو ضرور پڑھو ہاں) اس کے علاوہ اور کوئی سورہ نہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب