کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 347

پڑھو ۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اسی طرح حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ فاتحہ ختم کرنے کے بعد آمین بلند آواز سے کہی (ترمذی جلد ۱ صفحہ ۴۲) امام ترمذی نے اس حدیث کو بھی حسن کہا ہے ۔ بتائیے یہ حدیثیں قابل احتجاج کیوں نہیں ہیں جب کہ ایک طالب علم بھی جانتا ہے کہ حدیث حسن قابل احتجاج ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ذرا ان جرحوں کو بھی سن لیجیے جو امام بخاری کے علاوہ دوسرے ناقدین نے جمیع بن عمیر پر کی ہیں اور مولانا مؤی نے اپنی مصلحت کے پیش نظر ان کو چھپانا ہی مناسب سمجھا ہے۔ حالانکہ یہ جرحیں بھی وہیں موجود ہیں جہاں سے مولانا نے توثیق کے کلمات نقل کیے ہیں:قال ابن عدی هو کما قال البخاری فی احادیثه نظر وعامة ما یرویه لا یتابعه علیه احد (تہذیب التہذیب ص۱۱۱ج۲)’’یعنی ابن عدی نے کہا ہے کہ واقعی یہ ویسا ہی راوی ہے جیسابخاری نے کہا ہے کہ اس کی احادیث میں نظر ہے۔اس کی اکثرروایتیں ایسی ہیں کہ جس کی متابعت (تائید) دوسرا کوئی راوی نہیں کرتا‘‘۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آگے سنیئے: وقال ابن نمیر کان من اکذب الناس (میزان ص۱۹۵ج۱)ابن نمیر نے کہا ہے کہ وہ بڑے جھوٹے لوگوں میں سے تھا۔ ابن حبان نے تو بات کھول ہی دی اور صاف کہہ دیا کہ وہ رافضی ہے۔جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے۔(قال ابن حبان رافضی یضع الحدیث حوالہ مذکور) فرمائیے جوراوی مطعون بالکذب والوضع ہو اس کی روایت بھی حسن اور قا بل احتجاج ہوتی ہے؟قابل احتجاج نہ سہی،استشہادواعتبار ہی کے قابل ہو سکتی ہے؟اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر جان بوجھ کر ایسے راویوں کو معارضہ میں پیش کرنے کا مقصد (جیسا کہ ہم نے کہا ) سوائے مغالطہ دینے اور اپنی ’’شانِ محدثیت ‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب