کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 350

میں بھی(جس میں نیموی کے اعتراضات پر ضمناً کہیں کہیں بحث کی گئی ہے)محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نے ان تینوں اعتراضوںکا جواب دیا ہے۔البتہ یہاں بہ نسبت ابکارالمنن کے کسی قدراختصار وایجاز سے کام لیاہے۔بس اسی اختصار وایجاز سے مولانا مئوی نے یہاں فائدہ اٹھانے کی کو شش کی ہے۔یعنی اسحاق بن ابی فردہ کی اسی روایت پر ابکارالمنن میں بھی بحث کی گئی ہے، مگر جو تفصیل وہاں مذکور ہے اس کے لحاظ سے اسحاق کی روایت پر وہ اعتراض وارد نہیں ہو سکتا جو مولانا مئوی نے یہاں اٹھایا ہے۔ اس لیے انہوں نے کمال فن کاری سے کام لیتے ہوئے اس موقف پرابکارالمنن کے بجائے تحقیق الکلام کو اپنے اعتراض کا موردبنایا ہے۔ گویا یہ اعتراض محدث مبارک پوری کی اصل استدلال پر نہیں ہے۔بلکہ ان کے اختصاروایجاز پر ہے۔جو تحقیق الکلام میں انہوں نے فرمایا ہے۔ بتائیے یہ کوئی معنوی اعتراض ہوا یا محض لفظی؟اس قسم کی سطحی،اوچھے اورنرے لفظی مناقشے کسی محقق اہل علم کی شان سے بعید ہیں۔حمادبن شعیب اور ابراھیم بن عثمان کی روایتوں پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں وہ کسی خاص کتاب اور کسی خاص اندازبیاں کیاختصار سے فائدہ اٹھا کرنہیں کیے گئے ہیں بلکہ نہایت ٹھوس بنیادوں پرقائم ہیں۔اس لیے مولانامئوی کے اعتراضات کو بھلا ان اعتراضوں سے کیا نسبت؟صدق من قال وللحروب رجال یعرفون بها. محدث مبارک پوری رحمہ اللہ نے نیموی کے مذکورہ بالا اعتراض کے دو جواب دیئے ہیں۔ایک یہ کہ مکحول کبار صحابہ رضی اللہ عنہ سے تدلیس کرتے ہیں(صغیر السن صحابہ رضی اللہ عنہ سے نہیں)اورمحمود بن ربیع رضی اللہ عنہ صغار صحابہ میں سے ہیں۔ اس لیے مکحول کا مدلس ہونا حدیث عبادہ کی صحت کو کچھ مضر نہیں ہے۔اس کا ثبوت اور حوالہ دینے کے بعد دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت کے بیان کرنے میں مکحول متفردنہیں ہے بلکہ عبداللہ بن الحارث نے انکی متابعت کی ہے۔یعنی جیسے مکحول نے اس راویت کو حضرت محمودبن ربیع رضی اللہ عنہ سے بیان

  • فونٹ سائز:

    ب ب