کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 352
دوسری سند نہیں پیش کی گئی ہے۔یعنی یہاں حضرۃ الشیخ مبارک پوری نے اختصار سے کام لیا ہے۔ لیکن ابکار المننن میں دوسری کتابوں کے حوالے اور ان کی سندیں بھی تفصیل سے نقل کی گئی ہیں اور ثابت کیا گیا ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن الحارث سے روایت کرنے والے شعیب بن ابی حمزہ بھی ہیں جو بالاتفاق نہایت ثقہ اور حافظ و ضابط راوی ہیں ۔ اس کے علاوہ حرام بن معاویہ اور رجاء بن حیوۃ نے بھی محمود بن ربیع سے یہ روایت بیان کی ہے ۔ گویا مکحول کے تین متابع ہوئے ۔ عبداللہ بن حارث ، حرام بن معاویہ ، رجاء بن حیوۃ ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ نہ تو حضرت محمود بن ربیع سے روایت کرنے میں مکحول متفرد ہیں اور نہ عبداللہ بن عمرو بن الحارث سے روایت کرنے میں ۔ اسحق بن ابی فروہ متفرد ہے اور نہ اسحق سے روایت کرنے میں معاویہ بن یحی متفرد ہے جس کو امام دارقطنی نے ضعیف کہا ہے ۔ چنانچہ محدث مبارکپوری ان تفصیلات کے پیش کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں : قلت تابع اسحق بن ابی فروة شعیب بن ابی حمزة فی روایة البیہقی وہو ثقة وروی عنہ ابنہ بشر وہو ثقة و روی عنہ ایضا محمد بن حمیر وہو ثقة و روی عن محمد بن حمیر عمرو بن عثمان وہو صدوق روی عن عمرو بن عثمان جماعة کما صرح بہ البیہقی فلا باس بضعف معاویة (ای معاویة بن یحی الذی روی عن اسحق بن عبداللہ بن ابی فروة و ضعفہ الدارقطنی و اسحق بن ابی فروة و یظہر من کلام البخاری الذی نقلہ النیموی ان حرام بن معاویة و رجاء بن حیوة ایضا تابعا مکحولا عن محمود بن الربیع عن عبادة... فظہر ان اعلال النیموی بقولہ ’’فیہ مکحول وہو یدلس ‘‘ ۔ مبنی علی قلة الاطلاع انتہی (ابکار المننن ص ۱۲۴ و ص ۱۲۵) ۔