کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 353

اس عبارت کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ شعیب بن ابی حمزہ نے اسحق بن ابی فروہ کی متابعت کی ہے ۔ وہ خود بھی ثقہ ہیں اور ان کے نیچے کے سب راوی بھی ثقہ ہیں ۔ لہذا اسحق بن ابی فردہ کا ضعیف ہونا حدیث عبادہ کی صحت کے لئے کچھ مضر نہیں ہے ۔ مولانا نیموی نے جن وجوہ کی بنا پر اس حدیث کو معلول ٹھیرایا ہے وہ ان کی قلت اطلاع پر مبنی ہے ۔ اس کی تفصیل و تحقیق سے یہ بات اچھی طرح واضح اور منقح ہو جاتی ہے کہ محدث مبارک پوری نے ’’اسحق بن ابی فردہ کی روایت کی ہوئی جس حدیث سے تائید حاصل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا ہے‘‘ ۔ ان کا دارو مدار اور پورا اعتماد انہیں دونوں پر ہے اور یہ دونوں انہی ’’اوصاف عالیہ‘‘ کے حامل ہیں جن ’’اوصاف عالیہ‘‘ کا حامل اسحق ہے ۔ اس کے بعد ابو شیبہ کی مرفوع روایت کا تو سرے سے کوئی متابع ہی موجود نہیں ہے ۔ نہ ثقہ نہ ضعیف ۔ نہ تحقیقی نہ ادعائی ۔ رہا حماد بن شعیب تو اس کا متابع مولانا مئوی نے ابو الحسناء کو بتایا ہے ، مگر یہ محض دعوی ہی دعوی اور زعم ہی زعم ہے ۔ اس کا ثبوت کچھ بھی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ جس شخص کو ابوالحسناء کا استاد قرار دے کر یہ دعوی کیا گیا ہے ان دونوں کی معاصرت تک ثابت نہیں ہے تو تلمذ اور متابعت کہاں سے ثابت ہو گی ۔ اس کے علاوہ ابوالحسناء مجہول کا استاد قرار دے کر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان دونوں کی معاصرت تک ثابت نہیں ہے تو تلمذ اور متابع کہا ں سے ثابت ہو گی ۔ اس کے علاوہ ابوالحسناء مجہول العین ہے اور اگر بالفرض مجہول العین نہ ہو تو مجہول العدالۃ الظاہرہ و الباطنہ تو ضرور ہے ۔ ان تمام باتوں پر ہم پہلے سیر

  • فونٹ سائز:

    ب ب