کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 357

بالفاظ دیگر عینی کے نقل کئے ہوئے اکثر اقوال سے بیس پر ’’استقرار عمل‘‘ کا دعویٰ باطل ہوتا ہے اور حضرت معاذ ابو حلیمہ اور اسود نخعی کے آثار سے اسی کے ساتھ ساتھ عہد فاروقی میں ’’اجماع‘‘ ہو جانے کا یہ دعوی بھی باطل ہوتا ہے اس طرح دعوی کی دونوں شقوں کا بطلان ثابت ہو جاتا ہے ۔ اس کے باوجود اگر کسی کو ’’بیان پڑھ کر سوال از آسمان جواب از ریسماں ولی مثال یاد آ جائے ‘‘ تو اس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ یہ اس کا قصورِفہم ہے یا عوام کے جذبات سے کھیلنے کے لئے محض ایک معاندانہ پروپیگنڈا ہے ۔ مولانا مئوی نے ’’ہوشیاری‘‘ یہ کی ہے کہ استقرار عمل کے دعوی پر جو اعتراض ہے اس کو تو بالکل حذف کر دیا ہے اور عہد فاروقی میں اجماع ہو جانے کے دعوی پر جو اعتراض ہے بس اسی کو لے لیا اور عینی کے نقل کئے ہوئیے اقوال کے ساتھ اس کو جوڑ کر پھبتی اڑا دی کہ دیکھو جی سوال کچھ ہے اور جواب کچھ ۔ ع بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی ست آیئے اب ہم آپ کو بتائیں کہ محدث مبارکپوری نے مذکورہ بالا دونوں دعووں کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب