کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 360
یعنی یہ بھی ان صحابہ میں سے ہیں جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کا امام مقرر کیا تھا جب یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کا واقعہ ہوا یا کم از کم یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کو بھی شامل ہے تو عہد فاروقی میں خاص بیس رکعت پر اجماع ہوجانے کا دعوی یقینا باطل ہو گیا اسی طرح بیس ہی رکعت پر عمل ٹھہر جانے کا دعوی بھی باطل ہو جاتا ہے ۔ رہا اس تقدیر پر اس کے منقطع ہونے کا شبہ تو واضح رہے کہ محمد بن سیرین تابعی ہیں اور حنفیہ کے نزدیک تابعی اور تبع تابعی کا ارسال و انقطاع روایت کے لئے کچھ مضر نہیں ہے ۔ ان کے نزدیک ایسی منقطع روایت بلا شبہ حجت اور مقبول ہے ۔ مولانا بحرالعلوم حنفی لکھتے ہیں : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الوضو من کل دم سائل رواہ ابن عدی فی الکامل والدارقطنی وقال رواہ عمر بن عبدالعزیز عن التہیم الداری ولم یرہ ولا یضر فان غایتہ الانقطاع والمنقطعة حجة عندنا (شرح مسلم الثبوت طبع ہند ۴۱۸) ۔