کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 361

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بدن کے کسی حصہ سے خون نکل کر بہہ جائے تو وضو واجب ہو جاتا ہے ۔ اس حدیث کو ابن عدی نے اپنی کتاب ’’الکامل‘‘ میں روایت کیا ہے اور دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے ۔ دارقطنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز نے تمیم داری سے روایت کیا ہے ۔حالانکہ انہوں نے تمیم داری کو دیکھا بھی نہیں (بحرالعلوم کہتے ہیں) یہ جرح کچھ مضر نہیں ہے اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ کا مطلب یہ ہوا کہ یہ روایت منقطع ہے ۔ تو منقطع روایت ہمارے (یعنی حنفیہ کے ) نزدیک حجت ہے ۔ فخر اسلام بزدوی (حنفی) فرماتے ہیں : واماارسال القرآن الثانی والثالث فحجة عندنا وهو فوق المسند کذلك ذکره عیسی بن ابان انتهی (اصول بزودی باب بیان قسم الانقطاع) یعنی تابعی اور تبع تابع کا ارسال (انقطاع) ہمارے نزدیک حجت ہے ،بلکہ مسند(متصل) سے بڑھ کر ہے۔ایسا ہی ذکر کیاہے عیسیٰ بن ابان نے۔‘‘ بتائیے جب تبع تابعی کی منقطع روایت حجت ہے تو ابن اسرین کی منقطع روایت حجت کیوں نہ ہوگی۔جبکہ وہ تابعی بلکہ اوساط تابعین ہیں۔ نیز مولانا مئوی نے ایسی روایتوں کو(یعنی جن میں کسی تابعی نے کسی صحابی کا فعل نقل کیا ہو اور خود اس صحابی کو یہ کام کرتے ہوئے نہ دیکھاہو جیسے یزید بن رومان وغیرہ کا اثر جو پہلے گزر چکاہے)مرسل قرار دیا ہے اور اس کے بعد مرسل کی بابت لکھاہے: ’’مرسل کے قبول وعدم قبول میں آئمہ کا اختلاف ہے۔امام مالک رحمہ اللہ اور

  • فونٹ سائز:

    ب ب