کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 364

اسود کے اسی اثر کو مولانا مئوی نے اپنے مطلب کے موقع پر اس انداز میں پیش کیاہے۔ لکھتے ہیں: ’’کوفہ میں اسودبن یزیدالمتوفی۷۵؁ھ چالیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔یہ واضح رہے کہ اسود حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ،حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ،حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے کبار کے صحبت یافتہ تھے۔‘‘ (رکعات ص۴) بتائیے ان سطروں سے مولانا کا منشاء اسود کی ان چالیس رکعتوں کی اہمیت ہی ظاہر کرنا ہے؟سوال یہ ہے کہ کیااس اہمیت سے فائدہ اٹھانی کا حق صرف مولاناہی کو ہے؟اہل حدیث کو یہ حق حاصل نہیں ہے؟اگر ہے تو پھر ہمیں کہنے دیجیے کہ اسودبن یزید کا یہ عمل زبردست قرینہ ہے اس بات کا کہ جن کبار صحابہ رضی اللہ عنہ کے وہ صحبت یافتہ تھے،کم ازکم وہ صحابہ بیس کی عدد کی خاص طور پرپابند نہ تھے اورنہ وہ اس پر متفق اور مجتمع تھے۔جیساکہ مولانا مئوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثرپر

  • فونٹ سائز:

    ب ب