کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 365

بحث کی ذیل میں اسی قسم کا استدلال پیش کیا ہے اس طرح گویا غیر شعوری طور پر مولانا مئوی نے خودبیس رکعت پر صحابہ کی اجماع اور اسی پر ان کے عمل کے استقرار کے دعووں کے بطلان کو تسلیم کر لیاہے لیکن ضداور تعصب کا کوئی علاج نہیں۔ اسی سلسلے میں اس راویت کو بھی یادکرلیجیے جس کا ذکراکابر علماء حنفیہ ہی کی کتابوں میں ملتا ہے۔ قاضی خاں جیسے مشہور حنفی فقیہ اپنے فتاوی کی فصل فی مقدارالتراویح کے ذیل میں لکھتے ہیں: وقال مالك ان یصلی ستاوثلثین رکعة سوی الوتر لماروی عن عمر وعلی رضی الله عنهما انهماکان بصلیان ستة وثلثین انتهی (فتاویٰ قاضی خاں مع عالمگیریہ طبع مصرص ۲۳۴/۱) ’’یعنی امام مالک نے کہا ہے کہ تراویح وتر کی علاوہ چھتیس رکعتیں ہیں۔کیونکہ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ چھتیس رکعتیں پڑھتے تھے۔‘‘ یہی مضمون ہدایہ کی مشہورشرح کفایہ میں بھی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: واما عند مالك فانها مقدرة بست وثلیین رکعة اتباعا لعمر رضی الله عنه مولانا شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:وقدیروی ذالک عن عمر وعلی رضی اللہ عنہما لکنۃ غیر مشہور عنھما انتھی (ما ثبت بالسنۃ ص۲۱۸) اس روایت کی سند یا حوالہ کی ذمہ داری علمائے احناف پر ہے۔ہماری ذمہ داری صرف تصحیح نقل کی ہے۔ہم نے تو الزاما پیش کیا ہے اور اس لئے پیش کیاہے کہ ان اکابر علمائے احناف میں سے کسی نے بھی اس روایت کو بے اصل اور بے

  • فونٹ سائز:

    ب ب