کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 368

کا منقطع ہونا کچھ مضر نہیں۔ یایہ کہا جائے کہ جن صحابہ کے یہ شاگرد یافتہ ہیں انکوبھی ’’ماازال الناس‘‘ سے مستثنیٰ نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی بابت یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ عہد فاروقی میں بیس پڑھتے تھے اور بعد میں چھتیس پڑھنے لگے تھے اورجب یہ روایت میں اسکی تصریح وتفصیل مذکور نہ ہو۔وہب بن کیسان کے اس بیان کی تخصیص بلادلیل ہوگی جو قابل التفات نہیں ۔اور جب تخصیص ثابت نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صحابہ کا عمل عہدفاروقی میں بھی یہی تھا اوراس کے بعد بھی وہی قائم رہا۔لہذابیس پر’’اجماع‘‘اور اسی پر عمل کے ’’ٹھہراو ‘‘کے دعوے باطل ہیں۔ ٰ رہے وہ آثار جن سے صرف عہدفاروقی کے بعد بیس کے خلاف عمل کا ثبوت ملتا ہے تو ان سے اگرچہ دعویٰ کی پہلی شق پر اثرنہیں پڑھتا لیکن دوسری شق یعنی اسی پر بلا داسلامیہ میں عمل کے ٹھہر جانے کا دعویٰ تو ضرور باطل ہو جاتا ہے۔ ان آثارکے ثبوت کی بابت مولا نا مئوی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔اس لیے ہم ان کونقل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔یہ تو وہ آثار ہیں جن میںبیس سے زیادہ رکعتوں کا ذکر ہے۔اب ہم اس اثر کو پیش کرتے ہیں جس سے بیس سے کم رکعات پڑھنے کا ثبوت ہوتا ہے۔ ایک جماعت بیس رکعت سے کم پڑھتی تھی روایت کے الفاظ یہ ہیں: کان ابومجلز یصلی بهم اربع ترویحات ویقراء بهم سبع القراٰن فی کل لیلة انتهی (قیام اللیل ص۹۲) یعنی ابومجلز رحمہ اللہ لوگوں کو چار ترویحے (سولہ رکعتیں ) پڑھایا کرتے تھے۔ اور ہر رات ان کے ساتھ قرآن پاک کی ایک منزل پڑھتے تھے۔‘‘ابو مجلز رحمہ اللہ بصری اور تابعی ہیں۔ان کا نام لاحق بن حمید ہے۔ سن وفات کی مدت زیادہ سے زیادہ ۱۰۹بتائی جاتی ہے مندرجہ ذیل صحابہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حدیثیں روایت کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب