کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 37

۱۴۔ عین الہدایہ میں ہے : تراویح صحیح صحیح حدیث سے مع وتر کے گیارہ ہی رکعات ثابت ہیں صفحہ ۵۶۳ ۔ ۱۵۔ مولانا انور شاہ صاحب فرماتے ہیں : ’’ولا مناص من تسلیم ان تراویحه علیه السلام کانت ثمانیة رکعات ‘‘ (العرف الشذی ص ۳۲۹) ۔ یعنی (علماء حنفیہ خواہ کتنا ہی ہیرا پھیری کریں اور ہزار باتیں بنائیں ، لیکن سچ تو یہ ہے کہ ) اس کے تسلیم کئے بغیر ہمارے لئے کہیں پناہ نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح تو آٹھ ہی رکعت تھی ۔ تنبیہ : اس موقع پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اکابر حنفیہ کی ان شہادتوں کے باوجود نہ معلوم کس طرح دارالعلوم دیوبند کے مہتم کو یہ جرأت ہوتی ہے کہ وہ ہر سال رمضان شریف کے موقع پر یہ اعلان کردیا کرتے ہیں کہ بعض لوگ آٹھ رکعت تراویح کو سنت کہتے ہیں ، یہ درست نہیں ‘‘ ۔ یہی فتنہ انگیز اشتہار اشتعال کا باعث ہوتا ہے ۔ ہر سال نزاع تازہ ہو جاتی ہے ۔ پر سکون اور پر امن فضا خراب ہو جاتی ہے ۔ اپنے مذہب کے مسائل کا بیان قابل اعتراض نہیں ، لیکن کیا یہ فرض دوسروں کے جذبات کو مشتعل اور مجروح کئے بغیر ادا نہیں کیا جا سکتا ؟ کاش ! مہتمم دارالعلوم دیوبند اپنے اکابر کی باتوں کا ادب و احترام کرتے اور یہ فساد انگیز مشغلہ چھوڑ دیتے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح کا کوئی عدد ثابت نہیں ؟ ہمارے گذشتہ بیان سے اگرچہ یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی سنت سے جس طرح تراویح باجماعت کا ثبوت ہوتا ہے اسی طرح

  • فونٹ سائز:

    ب ب