کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 371

وہ یا تو مووّل ہے یا منسوخ ہے اور اسی طرح جو حدیث اس قسم کی ہو وہ مودّل ہے یا منسوخ۔‘‘ (تاریخ فقہ اسلامی از عبدالسلام ندوی ص۴۲۱) یعنی آیت یا جدیث اگر حنفی مذہب کے مطابق ہے تب تو وہ سر آنکھوں پر‘لیکن اگر وہ حنفی مذہب کے مخالف ہے تو ہم کو شش کریں گے کہ اس کی تاویل کرکے اس کو حنفی مذہب کے مطابق بنائیں اور اگر اس کی کوئی ایسی تاویل نہ ہو سکی تو ہم کہیں گے کہ وہ آیت منسوخ ہے یا وہ حدیث منسوخ ہے۔گویا آیت یا حدیث کا چھوڑ دینا گوارا ہے‘ مگر حنفی مذہب کا مسئلہ چھوڑ دینا گوارا نہیں۔ عیاذاً بااللہ۔ فرمایئے جہاں یہ جمود اور ’’ہمت‘‘ ہو وہاں آپ کی اس تاویل پر کیا تعجب کریںکہ ’’ ممکن ہے وہ یوں پڑھتے رہے ہوں…یا ممکن ہے وہ یوں پڑھتے رہے ہوں۔‘‘…دلیل اور ثبوت سے تو آپکو مطلب ہے نہیں ۔آپکو تو بس فکر اس بات کی ہے کہ عقیدت مندوں اور مریدوں کا حلقہ ٹوٹنے نہ پائے۔اس لیے اوٹ پٹانگ جو آئے کہ دو ‘تاکہ جواب کا نام ہو جائے ۔چاہے کام ہو یا نہ ہو۔ بہر حال ان آثار وروایات کی موجودگی میں اس میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتاکہ عہدفاروقی میں بھی اور اس کے بعد کے زمانوں میں بھی صحابہ رضی اللہ عنہ اورتابعین کے عمل سے بیس رکعت سے زیادہ اور بیس سے کم ‘دونوں طرح تراویح کا پڑھنا ثابت اور محقق ہے۔اس لیے خاص بیس رکعت پراجماع اور اسی پرعمل کے استقرار کا دعویٰ یقینا باطل ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ دعویٰ نہ تو عہد فاروقی کے کسی صحابی نے کیا ہے اور نہ کسی تابعی نے اور نہ اسکے قریبی زمانے کے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے جس زمانے میں یہ تقلید شخصی کاراج ہو چکا تھا اور اس کی نتیجے میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب