کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 372

فقہی فرقہ بندی قائم ہو چکی تھیں۔لہذا واقعات کی روشنی میں یہ دعویٰ کسی طرح قابل التفات اور لائق نہیں ہے۔ قولہ : اور یہی وجہ ہے کہ نواب صدیق حسن صاحب نے اس کو ذکر کرکے کوئی اعتراض نہیں کیا‘بلکہ سکوت اختیار کیاہے۔فرماتے ہیں وقد عدوا ما وقع فی زمن عمر ضی الله عنه کالاجماع (عون الباری ) (رکعات ص ۸۶) ج : رکعات ص۷۰ میں بھی مولانا مئوی نے یہ عبارت نواب صاحب ہی کی طرف منسوب کی ہے اور اس کو نواب صاحب ہی کا کلام قرار دیا ہے۔ چناچہ لکھتے ہیں : ’’اور نواب صدیق حسن صاحب کی یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ وقد عدوا ما وقع فی الخ عون الباری مع نیل ص ۳۷۰ ج۴‘‘ حالانکہ یہ نواب صاحب کی ’’بات ‘‘اور ان کا کلام نہیں ہے بلکہ یہ اس طویل عبارت کی درمیان کا ایک ٹکڑا ہے جو نواب صاحب نے قسطلانی شرح بخاری کے حوالہ سے عون الباری میں نقل کیا ہے اور آخر میںن صاف صاف لکھ دیا ہے : انتهی کلام القسطلانی بتمامه علیٰ حدیث عمر بن الخطاب یہ عبارت قسطلانی شرح بخاری جلد ثالث ص۴۳۲ میں موجود ہے۔اگر یہ نواب صاحب کی ’’بات ‘‘ ہے تو پھر قسطلانی میں کیسے موجود ہے؟ کیا قسطلانی نے نواب صاحب سے نقل کیا ہے؟کہیں وہی مضمون تو نہیں کہ چہ خوش گفت سعدی در زلیخا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’’علامہ ‘‘ مئوی نے براہ راست نہ عون الباری دیکھی ہے اور نہ قسطلانی ۔کسی دوسرے حنفی عالم کے رسالے میں یہ حوالہ پڑھ کر اسی پر اعتماد کر لیا اور رعب جمانے کے لیے حوالہ عون الباری اور نواب صاحب کا دیے دیااوریا پھرجان بوجھ کر انصاف ودیانت کے خلاف محض عوام کو مغالطہ مین ڈالنے کے لیے تلبیس وتدلیس سے کام لیا ہے جو ان کی شانِ تقدس کی قطعاً منافی ہے۔رہا

  • فونٹ سائز:

    ب ب