کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 388

گذارش یہ ہے کہ اس تفصیل کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے ؟ اس کے علاوہ پہلی شق کا بطلان ہم پچھلے صفحات میں ثابت کر چکے ہیں ، اور دوسری شق کا بطلان خود آپ کے اس اقرار سے واضح ہے کہ بیس سے کم پڑھنے کا بھی ایک قول موجود ہے اور اس قول پر سلف کی ایک جماعت عمل پیرا تھی ۔ باصول حنفیہ کسی ایک اہل اجماع کی مخالفت سے اجماع منعقد نہیں ہوتا ۔ چہ جائیکہ ایک جماعت اس کی مخالف ہو ۔ چنانچہ توضیح میں ہے : وعند البعض لا یشترط اتفاق الکل بل الاکثر کاف لقوله علیه السلام علیکم بالسواد الاعظم وعندنا یشترط لان الحجة اجماع الامة فما بقی احد من اهله لا یکون اجماعا انتهی (توضیح مع تلویح ص ۵۰۷ ج ۲ طبع مصر) ابن امیر الحاج شرح التحریر میں لکھتے ہیں : فما دام واحد من اهل الاجماع مخالفا لم ینعقد الاجماع لاحتمال ان یکون الحق معه لان المجتهد یخطئ و یصیب (ص ۹۵ ج ۲) یعنی اہل اجماع میں سے اگر ایک شخص بھی مخالف ہو تو اجماع منعقد نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے حق اسی کے ساتھ ہو جو اکیلا ہے‘‘۔ ثانیا جس طرح آپ نے یہ دعوی کیا ہے کہ ایک قول کے سوا بیس سے کم کا کوئی بھی قول نہیں ہے اور بلاد اسلامیہ میںبیس یا بیس سے زائد رکعتوں پر مساجد میں برابر عمل ہوتا رہا ہے ۔ ٹھیک اسی طرح سے فرض نمازوںکے بعد دعا مانگنے کی مروجہ ہیئت کا التزام کرلینے کی نسبت بھی کسی نے اجماع اور تعامل ہی کا دعوی کیا ہے جیسا کہ علامہ شاطبی لکھتے ہیں : فزعم انه مازال معمولا به فی جمیع اقطار الارض او فی جلها من الائمة فی مساجد الجماعات من غیر نکیر ابی عبدالله ثم اخذ فی ذمه (کتاب الاعتصام الجزء الاول ص ۲۹۱)

  • فونٹ سائز:

    ب ب