کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 391

ثالثا صرف اس بنا پر کہ ان روایتوں سے بیس یا بیس سے زائد رکعتوں کا ثبوت ہوتا ہے۔ اور اس کے خلاف کا آپ کو علم نہیں ہے ۔ بیس یا بیس سے زائد رکعتوں کی نسبت اجماع منعقد ہو جانے کا دعویٰ کر دینا ائمہ اسلام کے نزدیک باطل ہے ۔ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ کتاب الصلوۃ میں لکھتے ہیں وقد انکر الائمة کالامام احمد و الشافعی وغیرهما هذه الاجماعات التی حاصلها عدم العلم بالخلاف لا العلم بعدم الخلاف فان هذا مما لا سبیل الیه الا فیما علم بالضرورة ان الرسول جاء به اٰه. (مجموعۃ الحدیث النجدیہ ص ۵۵۲) ۔ یعنی ائمہ اسلام جیسے امام احمد و امام شافعی وغیرہما نے ایسے اجماعوں کا انکار کر دیا ہے جن کی بنیاد اس بات پر ہے کہ خلاف کا علم نہیں ہے ۔ یہ نہیں کہ عدم خلاف کا علم ہو کیونکہ یہ بات تو صرف انہی چیزوں میں ہو سکتی ہے جن کے متعلق بالبداہت

  • فونٹ سائز:

    ب ب