کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 392
معلوم ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہیں ۔ امام شافعی فرماتے ہیں : ما لا یعلم فیہ خلاف فلیس اجماعاً اٰہ (مجموعہ الحدیث النجدیہ ص ۵۵۳) یعنی جس بات کے بارے میں کسی کی مخالفت نہ معلوم ہو تو وہ اجماع نہیں ہے‘‘ ۔ حافظ ابن القیم امام احمد کے متعلق لکھتے ہیں : قال فی روایة ابی طالب ہذا کذب ما اعلمہ ان الناس مجمعون ولکن یقول ما اعلم فیہ اختلافا فہو احسن من قولہ اجماع الناس وقال فی روایة ابی الحارث لا ینبغی لاحد ان یدعی الاجماع لعل الناس اختلفوا انتہی (مجموعۃ الحدیث النجدیہ ص ۵۵۳) یعنی بروایت ابو طالب امام احمد سے منقول ہے کہ کہ (جس امر کے بارے میں اختلاف کا علم نہ ہو اس کی نسبت) یہ کہ دینا جھوٹ ہے کہ میرے علم میں لوگوں نے اس پر اجماع کیا ہے ۔ بلکہ ایسی صورت میں یہ کہنا بہتر ہے کہ میں اس میں کسی کا اختلاف نہیںجانتا ۔ انہی امام احمد سے بروایت ابو الحارث منقول ہے کہ کسی شخص کے لئے مناسب نہیں ہے کہ (اختلاف کا علم نہ ہونے کی صورت میں) اجماع کا دعوی کر دے کیونکہ ہو سکتا ہے لوگوں نے اختلاف کیا ہو (لیکن اس کو اس کا علم نہ ہوا ہو) ۔ رابعاً اجماع کے اس دعوے کا مقصد دراصل گیارہ رکعت تراویح کی مسنونیت کا انکار ہے ۔ یا کم از کم یہ کہ اب یہ قابل عمل نہیں ہے ۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بلا نسخ و تبدیل قطعاً ثابت ہے خود علماء احناف کو بھی اس کا ثبوت تسلیم ہے جیسا کہ مفصل اور مدلل طور پر اس کا بیان گذر چکا ۔ اس