کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 394

وجہ سے اس وقت تک کبھی بھی ترک نہیں کی جا سکتی جب تک کوئی صحیح اور صریح ناسخ نہ پایا جائے ۔ ایسا ناسخ جس کو ائمہ دین نے نقل کیا ہو اور محفوظ رکھا ہو ۔ کیونکہ یہ محال ہے کہ امت اسلامیہ ناسخ کو تو ضائع کر دے جس کی حفاظت ضروری تھی اور منسوخ کو محفوظ رکھے جو اب عمل کے قابل نہیں ہے ۔ اور نہ اس کا شمار اب دین کے احکام و اعمال میں ہے بہت سے متعصب آدمیوں کا یہ حال ہے کہ جب کسی حدیث کو اپنے مذہب کے خلاف دیکھتے ہیں تو تاویل کر کے اور اس کے ظاہر مدلول کے خلاف معنی مراد لے کر اس کو پانے مطلب کے موافق بنانے کی کوشش کر تے ہیں جب اس سے عاجز آ جاتے ہیں تو اس حدیث کے خلاف اجماع کا دعوی کر دیتے ہیں اور اگر اس کی کوئی بھی گنجائش نہیں پاتے تو پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے ۔ یہ طریقہ ائمہ اسلام کا کبھی نہ تھا ۔ تمام ائمہ اس کے مخالف رہے ہیں وہ لوگ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی صحیح اور صریح سنت پا جاتے تھے تو اس کو نہ تاویل سے باطل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور نہ نسخ و اجماع کے دعووں سے ۔ امام شافعی اور امام احمد نے سب سے بڑھ کر اس طریقہ کا انکار کیا ہے ۔‘‘ دیکھئے حافظ ابن القیم نے مولانا مئوی جیسے متعصب لوگوں کی ذہنیتوں کی کسی نشاندہی کی ہے ۔ اللہ تعالی ہر مسلمان کو اس فتنہ سے بچائے ۔ بہر حال ایسے اجماع اور نسخ کے دعووں کی بنا پر گیارہ رکعت تراویح جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بالیقین ثابت ہے کبھی بھی ترک نہیں کی جا سکتی خواہ اس پر کسی کے عمل کرنے کا ہم کو علم ہو یا نہ ہو ۔ حافظ ابن القیم اسی کتاب الصلوۃ میں ایک جگہ لکھتے ہیں : واما ماقامت الادلة الشرعیه علیه فلا یجوز لاحد ان ینفی حکمه لعدم علمه بمن قال به فان الدلیل یجب اتباع مدلوله وعدم العلم بمن قال به لا یصح ان یکون معارضابوجه ما فهذاطریق جمیع الائمة المقتدی بهم . (مجموعۃ الحدیث النجدیہ ص ۵۵۲)

  • فونٹ سائز:

    ب ب