کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 395
یعنی جس امر کا ثبوت کسی دلیل شرعی سے ہو جائے اس کی نسبت یہ بات کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کی نفی اس لئے کر دے کہ اس پر کسی کے عمل کرنے اور اس کے قائل ہونے کا اس کو علم نہیںہوا ۔ کیونکہ دلیل کے مدلول کی اتباع واجب ہے اس کے مطابق کسی کے قول و عمل کا علم نہ ہونا اس دلیل کا معارض کسی طرح نہیںہو سکتا ۔ یہی طریقہ ان تمام ائمہ کا رہا ہے جن کی اقتدا کی جاتی ہے ۔ افادات علامہ ابن حزم رحمہ اللہ : اجماع کے ایسے دعووں کی علامہ ابن حزم اندلسی نے بھی الاحکام فی اصلول الاحکام میں تفصیل کے ساتھ نہایت پرزور طریقہ پر تردید کی ہے اس کتاب کا چوتھا حصہ ص ۱۷۲ سے ۱۹۰ تک ملا حظہ فرمائیں ۔ ذیل میں ہم چند عبارتیں اختصار کا لحاظ کرتے ہوئے اس کتاب سے نقل کر دیتے ہیں جن سے اندازہ ہو سکے گا کہ علامہ موصوف کی اس باب میں کیا تحقیق ہے : صحیح اور معتبر و مستند اجماع کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اس اجماع کا ذکر کیا ہے جو اس وقت زیر بحث ہے ۔ لکھتے ہیں: ثم حدث بع د قرن الرابع طائفة قلت مبالاتہا بہا تطلق بہ السنتہا فی دین اللہ تعالی...نصر التقلید من لا یغنی عنہم من اللہ شیئا من ابی حنیفة و مالک و الشافعی رحمہم اللہ الذین قد برأوا الیہم عماہم علیہ من التقلید فصاروا اذا عوزہم شغب ینصرون بہ فاحش خطاہم...فقالوا ہذا اجماع فاذا قیل لہم کیف تقدمون علی اضافة الاجماع الی من لم یرو عنہ فی ذلک کلکہ امام تتقون اللہ ؟ قال اکابرہم کل ما انتشر فی العلماء و اشتہر ممن قالتہ طائفة منہم ولم یأت عن سائرہم خلاف لہ فہو اجماع منہم لانہم اہل الفضل والدین والذین امر اللہ تعالی بطاعتہم فمن المحال ان یسمعوا ما ینکرونہ ولا ینکرونہ فصح انہم راضون بہ ہذا کل مامو ہوابہ مالہم متعلق اصلا بغیر ہذا وہذا تمویہ منہم ببراہین ظاہرة لاخفاء بہانو دہا ان شاء اللہ عزو جل و بہ نستعین (ص ۱۷۵)