کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 40

 حدیث کے دعوؤں کے پرکھنے سے پہلے اس مسئلہ پر روشنی ڈالنا مناسب سمجھا ہے کہ علماء اسلام کی تحقیق میں تراویح کا کوئی عدد معین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا نہیں ؟ ‘‘۔ تو اس کا منشا یہی ہے کہ علماء اسلام کے ان دو گروہوں میں سے خواہ کسی کا مسلک اختیار کیا جائے ، بہر حال اہلحدیث کا مذہب غلط قرار پائے گا ۔ احناف کے مذہب پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ اس لئے کہ دوسرا گروہ جو عددِ معین کے ثبوت کا قائل ہے وہ تو بقول مولانا کے بیس ہی کا قائل ہے اس لئے اس کے مسلک کا اہل حدیث کے خلاف اور احناف کے موافق ہونا تو ظاہر ہی ہے ۔ اس لئے مولانا نے اس کو بہت اختصار و اجمال کے ساتھ بلا کسی حوالہ و ثبوت کے پیش کیا ہے ۔ اور پہلا گروہ جو کسی عددِ معین کے ثبوت کا قائل نہیں ہے وہ مولانا کے بیان کے مطابق جس طرح بیس رکعات والی روایت کو ضعیف یا غیر متعلق سمجھتا ہے اسی طرح آٹھ رکعت والی روایتوں کو بھی ضعیف یا غیر متعلق قرار دیتا ہے ۔ اس سے حنفیوں کا تو کچھ نہیں بگڑتا کیونکہ وہ تو خود ہی بیس والی روایت کو ضعیف کہتے ہیں ۔ اس کی زد جو کچھ پڑے گی وہ صرف اہلحدیث کے مذہب پر ۔ اسی لئے مولانا نے اس کو حوالہ اور ثبوت کے ساتھ ذرا تفصیل سے پیش کیا ہے ۔ کیونکہ ’’لذیذ بود حکایت در از تر گفتیم ‘‘ ۔ ایسی صورت میں کیا ضرورت تھی کہ مولانا کسی گروہ کے مسلک کی بابت اپنا کوئی فیصلہ لکھ کر جنبہ داری کا الزام اپنے سر لیتے ۔ خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں گفتہ آید در حدیث دیگراں ایک اور مغالطہ : مولانا کا ایک اور مغالطہ بھی قابل ذکر ہے ۔ اس مسئلہ کا

  • فونٹ سائز:

    ب ب