کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 400

تنبیہہ خاص بیس رکعت پر اجماع کی بحث ختم کرتے ہوئے مولانا مؤی نے ایک سوال اٹھایا ہے اور پھر خود ہی اس کا جواب بھی دیا ہے ۔ مولانا کا وہ جواب اہلحدیث پر وارد ہونے والے ایک اعتراض کا جواب بھی ہے ۔ اس لئے ہم وہ سوال و جواب یہاں نقل کر دینا مناسب سمجھتے ہیں ۔ مولانا فرماتے ہیں : اب رہا یہ شبہہ کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں بیس پر اتفاق ہو گیا تھا تو بعد میں کسی نے مع وترک کے اکتالیس اور کسی نے انتالیس کو کیوں اختیار کیا کیا اس سے اس متفقہ فیصلہ کی مخالفت لازم نہیں آتی ؟ تو گذارش ہے کہ اس سے اس متفقہ فیصلہ کی مخالفت قطعاً لازم نہیں آتی ۔ اس لئے کہ جن لوگوں نے بیس پر اضافہ کیا ہے انہوں نے بیس کا فیصلہ رد نہیں کیا ہے بلکہ اس فیصلہ کو مع شے زائد تسلیم کیا ہے اور اس فیصلہ کو مانتے ہوئے اس اضافہ کی بنیاد یہ تھی کہ ان کے نزدیک اس فیصلہ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس پر اضافہ معیوب اور نا پسندیدہ ہے ، بلکہ اس کا مطلب ان کے نزدیک یہ تھا کہ کم از کم بیس رکعتیں ہونی چاہیئے اور اگر کوئی اضافہ کی طاقت پاتا ہو یا کثرتِ سجود کا ثواب حاصل کرنا چاہتا ہو تو اس میںکوئی مضائقہ نہیں ہے‘‘ ۔ (رکعات ص۸۹) ۔ ج : بس اہلحدیث بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ آثار جن سے گیارہ رکعت سے زیادہ تراویح پر عمل کا ثبوت ہوتا ہے گیارہ رکعت کی مسنونیت کے قطعاً منافی نہیں ہیں اس لئے کہ سلف میں جن لوگوں نے گیارہ رکعت پر اضافہ کیا ہے انہوں نے

  • فونٹ سائز:

    ب ب