کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 41

اہلحدیث کے دعوؤں کے ساتھ گہرا بلکہ بنیادی تعلق ہے اس لئے دعوؤں کے ذکر کے بعد ہی یہ بحث چھیڑی گئی ہے لیکن پھر بھی مولانا کس بھولے پن سے فرماتے ہیں کہ ’’اہلحدیث کے ان دعوؤں کے پرکھنے سے پہلے اس مسئلہ پر روشنی ڈالنا مناسب سمجھتا ہوں ‘‘ ’’پہلے ‘‘ کے لفظ پر غور کیجئے ۔ گویا اہل حدیث کے دعوؤں کی ’’پرکھ‘‘ سے اس مسئلہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ تو بس یونہی اتفاقی طور سے یہاں ذکر کر دیا گیا ہے اور بلا کسی خاص لگاؤ کے دعوؤں کی ’’پرکھ‘‘ سے ’’پہلے‘‘ اس پر ’’روشنی ڈالنا‘‘ مناسب سمجھ لیا گیا ہے ۔ بتایئے ! یہ مغالطہ نہیں تو کیا ہے ؟ ۔ تفصیلی جواب :’’علامہ‘‘ مئوی کی اس فسوں کاری کا منظر وپس منظر دکھانے کے بعد اب ہم اس کا تفصیلی جواب عرض کرنا چاہتے ہیں تاکہ حقیقت پوری طرح بے نقاب ہو کر آپ کے سامنے آ جائے ۔ ’’علامہ‘‘ کی عبارتوں کے لئے قولہ اور اپنے جواب کے لئے ج کا عنوان اختیار کیا گیا ہے قولہ : اس مسئلہ میں علما اسلام کے دو گروہ ہیں ، ایک گروہ جن میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، علامہ سبکی اور سیوطی وغیرہم شامل ہیں ۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے تراویح کا کوئی عددِ معین ثابت نہیں چنانچہ حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں : ومن ظن ان قیام رمضان فیه عدد معین موقت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یزید ولا ینقص فقد اخطاً (مرقاۃ الانتقاد الرجیح ص ۶۳) (انتھی رکعات ص ۱۶) ۔ ج ۔ جی نہیں اس مسئلہ میں علماء اسلام کے ما بین ہرگز کوئی گروہ بندی نہیں

  • فونٹ سائز:

    ب ب