کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 410
کایہ فرمان ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ فان امرتکم بشئ فاتوا منہ ما استطعتم واذانہیتکم عن شیئ فدعوہ (بخاری ص ۱۰۸۲/۲ ومسلم ص۴۳۲ج اول) یعنی جب میں لوگوں کو کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اس سے جتنا کرنے کی تم میں طاقت ہواتنا کرو۔ اور جب میں کسی کام کے کرنے سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو۔ اس حدیث میں ’’ منہ،،کا لفظ خاص طورپر قابل غور ہے ۔ امام نووی اس کی شرح میں لکھتے ہیں۔ : ہذا من قواعد الاسلام المہمة ومن جوامع الکلم التی اعطیہا صلی اللہ علیہ وسلم ویدخل فیہ ما لا یحصی من الاحکام کالصلوة بانواعہا فاذا عجز عن بعض ارکانہا اور بعض شروطہا اتی بالباقی.....الیٰ ان قال وہذا الحدیث موافق لقول اللہ تعالیٰ فاتواللہ ما استطعتم اہٰ ’’ یعنی یہ حدیث شریعت کے اہم قواعد میں سے ہے ۔ اس میں بے شمار احکام داخل ہیں۔ مثلاً نماز اپنی تمام قسموں کے ساتھ (خواہ فرض ہو یا نفل ، ادا ہو یا قضا) اگر کوئی شخص اس کے بعض ارکان یا بعض شروط پر عمل کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ان کو چھوڑ دے اورباقی ارکان و شروط جن کی طاقت رکھتا ہے ان کو بجا لائے۔ ‘‘ اس فرمان نبوی کی رو سے یہ استدلال یقینا باطل ہو جاتا ہے کہ اگر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت (کیفیت ادا) کی پابندی سے قاصرہیں تو آپ کی دوسری سنت (گیارہ رکعات) کی اتباع کو بھی چھوڑ دیں اوراس کی بجائے اس عمل (بیس رکعت اور تخفیف قیام) کو اختیار کر لیں جس میں آج کل ان سنتوں میں سے کسی ایک کی بھی اتباع نہیں کی جاتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طول قیام کا تو یہ حال تھا کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے ۔ (حتی ترم قدماہ بخاری ص ۱۵۲/۱) اور اتنے سوج جاتے تھے کہ پھٹ جاتے تھے ۔ (قالت عائشة حتی تفطر قدماہ ۔حوالہ مذکور) اسی واسطے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایکم یطیق ماکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یطیق (بخاری ص ۲۶۷/۱ ) وفی طریق اٰخریکم یستطیع ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یستطیع ۔(بخاری ص ۹۵۷/۲)