کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 411

یعنی تم میں سے کون طاقت رکھتا ہے کہ پوری طرح اس کیفیت کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کرے جس کیفیت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق ادافرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے صاف معلوم ہورہا ہے کہ ہم کو وہ طاقت ہی حاصل نہیں ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی تو پھر ہم وہ مشقتیں کہاں برداشت کر سکتے ہیں جن کا تحمل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ ہم کو اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ کوشش اورمحنت کرنی چاہیے ۔سوالحمدﷲ اہل حدیث فی الجملہ اس کا حق ادا کرتے ہیں۔ آج بھی جس کاجی چاہے اہل حدیث اور احناف دونوں کی تروایح کے اوقات کا موازنہ کرکے دیکھ لے۔ جتنی دیر میں اہل حدیث دور کعتیں پڑھتے ہیں اتنی دیر میں احناف کم ازکم آٹھ رکعتیں پڑھ ڈالتے ہیں۔ ثانیاً۔ یہ بھی سوچنے بات کی ہے کہ ایک قیام لیل اورتراویح ہی کیا؟ دوسرے تمام دینی کام مثلاً فرض ونفل نمازیں،روزے ، صدقہ خیرات ،حج حتیٰ کہ تبلیغ اسلام اوردعوت وارشاد وغیرہ جس خشوع اور خضوع ، اخلاص ، اطمینان

  • فونٹ سائز:

    ب ب