کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 412

قلب ، روجانی کیف و لذت، باطنی سکون وراحت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انجام دیتے تھے ، ہم میں کون ہے جو ان کاموں کا حق انہیں احساسات وکیفیات کے ساتھ ادا کرسکے؟ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کاموں کے بارے میں جو سنتیں اورآداب واحکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طورپر ثابت اورمنقول ہیں اور ہم ان سب کو نہیں تو کچھ نہ کچھ اپنی بساط اور طاقت کے مطابق کر بھی سکتے ہیں۔ ان کو بھی چھوڑ دیں؟ اور ان کے عوض میں ان طریقوں کو اختیار کر لیں۔ جو لوگوں نے اپنے اجتہاد اورفہم وفراست سے تجویز کئے ہوں؟ اگر نہیں تو پھرخاص کراہل حدیث ہی کی تروایح کے متعلق اس قسم کے غلط اور فضول شبہات پیداکرنے کا منشا عوام کو مغالطہ میں ڈالنے کے سوا اورکیا ہو سکتا ہے ۔؟ ثالثاً : ماناکہ رکعات میں اضافہ طول قیام کے عوض ہی میں کیا گیا ہے ،لیکن بایں ہمہ تخفیف اور تعجیل کی وہ صورت جس کو آج بیس پڑھنے والوں نے اپنا مستقل اور دائمی معمول بنالیا ہے۔ سلف امت میں ہرگز مروج نہ تھی۔ بیس پرعمل کرنے کی سب سے پہلی اور بنیادی دلیل عہد فاروقی کے عمل کو ٹھہرایا جاتا ہے، مگر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ عہد فاروقی میں ان بیس رکعتوں پر عمل کرنے کی کیفیت اور صورت کیا تھی؟ سنیے: قال محمد بن کعب القرظی کان الناس یصلون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان عشرین رکعته یطیلون فیها القرأة ویو ترون بثلت۔ (قیام الیل ص ۹۱) ’’یعنی محمد بن کعب قرظی (جو تابعی ہیں) بیان کر تے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان میں بیس رکعتیں پڑھتے تھے ۔ ان میں قرأت لمبی کرتے تھے اوروتر تین رکعت پڑھتے تھے ‘‘۔ اس ’’لمبی قرأت ‘‘ کا ابہام دوسری

  • فونٹ سائز:

    ب ب