کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 413

روایت سے دور ہو جاتا ہے ۔ عن السائب ایضاً انهم کانوا یقومون فی رمضان بعشرین رکعت ویقرئون بالمئین من القرآن وانهم کانوا یعتمدون علی العصی فی زمان عمر بن الخطاب (قیام اللیل ص ۹۱) ’’ یعنی حضرت سائب بن یزید ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ لوگ رمضان میں بیس رکعتیں پڑھتے تھے اورہررکعت میں قرآن کی وہ سورتیں پڑھتے تھے جن میں سو سے زیادہ آیتیں ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ اپنی لاٹھیوں کو ٹیک لگاکرسہارا لیتے تھے ۔‘‘(دیکھو رکعات ص ۲ـ۔۵۳) یہی کیفیت عہد عثمانی کے متعلق بھی منقول ہے ۔ مولانا مئوی خود لکھتے ہیں ’’ اورحضرت عثمان کے زمانہ میں تو قیام کی شدت کی وجہ سے لاٹھیوں پرٹیک لگاتے تھے ۔‘‘ اگریہ روایتیں خلفأ راشدین کے عہد میں تراویح کی بیس رکعتوں پر تعامل ثابت کرنے کے لئے قابل احتجاج ہیں (جیسا کہ مولانا مئوی نے اسی مقصد کے لئے ان کوپیش کیا ہے ) تو پھریقینا ان بیس رکعتوں کو پڑھنے کی کیفیت بیان کرنے کے اعتبار سے بھی یہ قابل حجت ہوں گی۔ لیکن انصاف سے کہیے کیا آج بیس رکعتیں اسی کیفیت کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں کہ لوگ تھک تھک کر لاٹھیوں پر ٹیک لگاتے ہوں؟ کیا ہر رکعت میں سو یاسو سے زیادہ آیتوں والی سورتیں پڑھی جاتی ہیں ؟ اگر نہیں تو سوچنے کی بات ہے کہ ’’کیفیت‘‘ کے اعتبار سے جب ہم نہ گیارہ رکعتوں کا پورا پورا حق مسنون اداکر سکتے ہیں اورنہ بیس کا۔ تو اب مقابلہ صرف ’’ کمیت‘‘ یعنی عدد کا رہ جاتا ہے۔ ایک طرف وہ عدد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بسند صحیح بلاشک و شبہہ ثابت اور محقق ہے جس کا ثبوت اکابر علمائے احناف کو بھی تسلیم ہیـ یعنی وتر سمیت گیارہ۔ اور دوسری طرف وہ عدد ہے جو لوگوں نے اپنے اجتہاد اورفہم فراست سے تجویز کیا ہے ۔ یعنی وتر سمیت تیئس۔ اب فان تنازعتم فی شئ فردو ہ الی اللہ والرسول (اگرتمہارے درمیان کسی مسئلہ شرعیہ میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اس کو اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاؤ۔ یعنی کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیصلہ کراؤ) کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کیجئے کہ ان دونوں میں سے کون عدد اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کو اپنامعمول بنائیں۔ ہمارا اصول تو بالکل صاف ہے کہ ؎

  • فونٹ سائز:

    ب ب