کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 416

منصف مزاج علماء احناف کو بھی اس کا اقرار واعتراف ہے ۔ اس کے بعد یہ تلاش کرنا کہ اس سنت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں نے عمل کیا یہ نہیں۔ اصولاً غلط ہے اور سنت صحیحہ سے ثابتہ کی اتباع سے جان چھڑانے کا ایک مقلدانہ حیلہ ہے۔ ۵ ۔ تاہم مشہور حنفی عالم شیخ عبدالحق محدث دہلوی کا بیان ہے کہ سلف کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمل کے ساتھ تشبہ کی نیت سے تراویح کی گیارہ ہی رکعتوں پر عامل تھی اور بروایت علمأ احناف و شوافع امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک گیارہ ہی رکعت پڑھنا زیادہ محبوب ہے اور باقرار مولانا مئوی محدث ابن العربی مالکی رحمہ اللہ اسی کے قائل تھے۔ ۶۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم یا ان کی رضا مندی سے بیس رکعات کا پڑھنا جمہور محدثین کی مسلمہ قواعد کی روسے ہرگز ثابت نہیں ہے اور اگربالفرض ثابت بھی ہو تو اس کی بنیاد فہم وفراست اوراجہتاد ورائے پر ہے۔ کسی صحیح مرفوع حدیث پرنہیں ۔ اس کے برخلاف گیارہ رکعت کی بابت حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان بالکل صحیح روایت سے ثابت ہے۔ اس روایت پر مولانا مئوی نے جتنے اعتراضات کئے ہیں محدثانہ بحث ونظر کے بعد ان کا کوئی وزن بانی نہیں رہتا اوروہ سب ناقابل التفات قرار پاتے ہیں۔ اسی لئے اس فرمان فاروقی کی نسبت اکابرعلماء امت کو تسلیم ہے کہ اس کا ماخذ سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے۔ ۷۔ اس باب میں جتنی مرسل روایتیں مولانا مئوی نے اپنے دعوے کی تائید میں پیش کی ہیں وہ سب بااصول جمہور محدثین ناقابل قبول ہیں۔ ان میں سے ایک بھی حجت یا تائید کے لائق نہیں ہے۔ ۸۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف جو روایت منسوب کی جاتی ہے کہ انہوں نے بیس

  • فونٹ سائز:

    ب ب