کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 417

رکعات تراویح پڑھنے کاحکم دیا تھا ۔ بااصول حدیث وہ بھی ثابت نہیں ہے۔ ۹۔ ولی کامل، عارف باللہ حضرت حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری قدس سرہ اور محدث اعظم حضرت مولانا علامہ عبدالرحمن صاحب مبارک پوری علیہ الرحمہ کی باتوں پر مولانا مئوی نے جتنی تنقیدیں کی ہیں ،فن رجال اور اصول حدیث کی رو سے ایک بھی صحیح نہیں ہے بلکہ وہ سب کی سب فاضل مئوی کے قصور علم یا قصور فہم کا نتیجہ ہیں۔ ۱۰۔ موالانا مئوی نے بیشتر مقامات مین مغالطوں سے کام لیا ہے ۔ نقل عبارت میں اپنے حسب منشا بکثرت خیانت اورقطع برید کیا ہے ۔ حد یہ ہے کہ بعض عبارتوں میں کھلی ہوئی تحریف کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ ان افسوس ناک حرکات اور خلاف دیانت تصرفات کی وجہ سے ان کی کتاب بہت سی غلط فہمیوں کا باعث بن گئی ہے۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اس کتاب کا جواب دینا اورمذکورہ بالا امور کا صاف کرنا نہایت ضروری تھا۔ جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہماری کتاب انوار مصابیح بجواب رکعات تروایح کے ذریعہ بڑی خوش اسلوبی سے انجام پذیر ہوا۔ فالحمدلله علیٰ سوابغ نعمائه وضوافی الائه والصلوٰة والسلام علی افضل انبیائه وقدوة اولیائه واسوة عباده فقط. نذیر احمد رحمانی اعظمی ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۷۸ ؁ھ۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۵۸؁۔ یوم جمعہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب