کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 48
فالحاصل ان العشرین لم یثبت من فعلہ صلی اللہ علیہ وسلم لیکن اس کے مقابلے میں وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ رکعتیں ثابت ہیں ۔ لکھتے ہیں : الوجہ الثانی انہ قد ثبت فی صحیح البخاری وغیرہ ان عائشة سئلت عن قیام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان فقالت ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرة رکعة (ص۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعت ثابت نہ ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری وغیرہ میں ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح کی بابت سوال کیا گیا تو انہوںنے کہا کہ آپ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ‘‘ ۔ یہی امام سیوطی حضرت سائب بن یزید کے اس اثر کے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ : کنا نقوم فی زمان عمر بن الخطاب باحدی عشرة رکعة الخ لکھتے ہیں : وہٰذا ایضا موافق لحدیث عائشة وکان عمر لما امر بالتراویح اقتصر ولا علی العدد الذی صلاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم زاد فی لآآخر الامر (ص۷) اس عبارت میں العدد الذی صلاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم زاد فی اٰخر الامر ص۷ خاص طور سے قابل غور ہے ۔ معلوم ہو گیا علامہ سیوطی کی تحقیق میں بیس رکعات تو نہیں ، مگر گیارہ رکعات بلا شبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہیں تو پھر اب وہ یہ کیسے کہہ