کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 49

سکتے ہیں کہ فعل نبوی سے ’’ کوئی عدد ‘‘ بھی ثابت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ جب ایجاب جزئی صادق ہے تو سلب کلی کا کاذب ہونا یقینی ہے ۔ اس کی یہ توجیہہ کرناجیسا کہ مولانا مئوی نے لکھاہے کہ ’’ ان کی تحقیق میں یہ روایتیں یا تو صحیح نہیں ہیں یا غیر متعلق ہیں ‘‘ سراسر تحریف اور توجیہہ القول بما لا یرضی بہ قائلہ کی مصداق ہے ۔ اس کی صحیح توجیہہ پیش کرنے سے پہلے ہم پوری عبارت آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں ۔ علامہ سیوطی لکھتے ہیں ۔ (الوجہ) الرابع ان العلماء اختلفوا فی عددها ولو ثبت ذالك من فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم لو یختلف فیه کعدد الوتر وسنن الرواتب ( ص۴) مولانا مئوی نے اس عبارت سے شروع کا ٹکڑا (الوجہ) الرابع حذف کر دیا ہے اور اس حذف کر دینے میں مصلحت یہ ہے کہ اگر اس لفظ کو باقی رکھا جائے تو پھر اس عبارت کا نعلق بھی اسی بات سے ہو جائے جس کے ساتھ دوسری ’’وجوہ‘‘ کا تعلق ہے ۔ یعنی بیس رکعات مروجہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت نہ ہوتا ۔ اور مولانا کو اس عبارت سے یہ دکھانا تھا کہ علامہ سیوطی بھی اسی بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ’’کوئی‘‘ خاص عدد ثابت نہیں نہ آٹھ نہ بیس ۔ تو یہ مقصد ’’ہاتھ کی صفائی کا یہ کرتب‘‘ دکھائے بغیر اس عبارت سے کہاں حاصل ہو سکتا تھا ؟ بہر حال اب اس کی صحیح توجیہہ سنیئے : ۔ یہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ علامہ سیوطی کی یہ کتاب ایک خاص سوال کا جواب ہے گویا یہ ایک فتویٰ ہے اور مفتی اپنے جواب میں سوال کی خاص شکل کو

  • فونٹ سائز:

    ب ب