کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 52
ج : اس عبارت کے ساتھ بھی مولانا مئوی نے وہی سلوک کیا ہے جواب تک وہ اس سلسلے کی دوسری عبارتوں کے ساتھ برابر کرتے چلے آ رہے ہیں یعنی سلسلہ عبارت کا پہلا حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کلام کا مفہوم بدل گیا ہے ۔ علامہ شوکانی نے سب سے پہلے فتح الباری کے حوالہ سے رکعاتِ تراویح کی تعداد کے متعلق مختلف اقوال و آثار نقل کیے ہیں ۔ اس کے بعد لکھتے ہیں ہٰذا ما ذکرہ فی الفتح من الاختلاف فی ذالک واما العدد الثابت عنہ صلی اللہ علیہ وسلم فی صلوتہ فی رمضان فاخرج البخاری وغیرہ عن عائشة انہا قالت ما کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرة رکعة واخرج ابن حبان فی صحیحہ من حدیث جابر انہ صلی اللہ علیہ وسلم بہم ثمان رکعات ثم اوتر … واما مقدار القراءة فی کل رکعة فلم یرد بہ دلیل والحاصل ان الذی دلت ۔ الخ (نیل باب صلاۃ التراویح ) ۔ ’’یعنی عدد تراویح کے باب میں یہ وہ اختلافات ہیں جو فتح الباری میں بیان کئے گئے ہیں ، لیکن ان تمام اعداد میں وہ عدد جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہے وہ آٹھ رکعات بلاوتر اور گیارہ رکعت مع وتر ہے ۔ جیسا کہ بخاری وغیرہ میں حضرت