کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 62

ہے ۔ بالکل غلط ترجمانی آپ نے ان کی کی ہے ۔ ان کا اعتراض ایسے حصر اور تحدید پر ہے جس پر کمی ، زیادتی کو ناجائز کہا جائے ۔ ’’سنت‘‘ ہونے پر نہیں ۔ بات سمجھ کر اعتراض کیجئے ۔ قولہ : پس ان حضرات کے نزدیک بھی حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہ میں تراویح کی رکعات کا بیان نہیں ہے اور اگر ہے تو ان کے نزدیک اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ گیارہ سے زیادہ پڑھنا سنت کیخلاف ہے ۔ اس لئے کہ اگر یہ مطلب ہو تو یہ خود ان کی کہی ہوئی بات کے خلاف ہو گا اور عقلاء کے کلام میں ایسا تناقص نہیں ہوتا۔ (ص ۱۱) ج : ان حضرات کے کلام سے نامکمل عبارتیں پیش کرکے آپ یہ ہوئی قلعہ تعمیر کر رہے ہیں ۔ ایک مرتبہ پھر ہم ان کی عبارتیں آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں ۔ علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : النسة فی التراویح ان تصلی بعد العشاء الاخرة...فان هذه تسمی قیام رمضان کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فرض علیکم یام رمضان و سننت لکم قیامه وکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامه بالیل هو وتره یصلی بالیل فی رمضان وغیر رمضان احدی عشرة رکعة او ثلث عشرة رکعة لکن کان (یطیلها) فلما کان ذالک یشق علی الناس قام بهم ابی بن کعب فی زمن عمرابن الخطاب عشرین رکعة یوتر بعدها و یخفف فیها القیام فکان تضعیف العدد عرضا عن طول القیام وکان بعض السلف یقوم اربعین رکعة فیکون قیامها اخف دیوتر بعدها بثلاث وکان بعضهم یقوم بست ثلاثین رکعة یوتر بعدها انتهی ۔ (فتاوی ابن تیمیه ص ۱۴۸ ج ۱ )

  • فونٹ سائز:

    ب ب