کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 63

اس عبارت میں اگرچہ حضرت عائشہ رضی ا للہ عنہا کا نام نہیں آیا ہے ، مگر فن حدیث کا ذوق رکھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ گیارہ اور تیرہ رکعات سے اشارہ انہی کی حدیث کی طرف ہے ۔ غور کیجئے ۔ شروع سے آخر تک تراویح کا بیان ہے اور اسی سلسلہ میں ۱۱ یا ۱۳ رکعات کا ذکر فعل نبوی کی نسبت کے ساتھ آیا ہے ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عہد فاروقی وغیرہ میں جو عدد رکعات کا اضافہ ہوا ہے یہ طول قیام کے عوض میں ہے ۔ کیا یہ سب باتیں تراویح کے متعلق نہیں ہیں ؟ پھر یہ کہنا کیسی غفلت اور نا واقفیت کی بات ہے کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہ میں تراویح کا بیان نہیں ہے ۔ اسی طرح امام شوکانی لکھتے ہیں : واما العدد الثآبت عنه صلی اللہ علیہ وسلم فی صلوته فی رمضان فاخرج البخاری وغیره عن عائشة الی ان قال واخرج البیهقی عن ابن عباس کان یصلی فی شهر رمضان فی غیر جماعة عشرین رکعة والوتر زاد سلیم الرازی فی کتاب الترغیب له ویوتر بثلاث قال البیهقی تفرد به ابوشیبة ابراهیم بن عثمان وهو ضعیف انتهی ۔ (نیل الاوطار مع العون صفحہ ۲۹۹ ج ۲) بتائیے ! اگر علامہ شوکانی کے نزدیک حدیث عائشہ رضی اللہ عنہ میں تراویح کا بیان نہیں ہے تو اما لعدد الثابت عنہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں سب سے پہلے حدیث عائشہ رضی اللہ عنہ اور اس کے بعد حدیث ابو شیبہ کا حوالہ دینے کا کیا مطلب ہے ؟ کیا عقلاء کے کلام میں ایسی ہی بے ربط اور بے جوڑ باتیں ہوا کرتی ہیں ؟ ۔ پس اس میں تو شبہ ہی نہیں ہے کہ ان حضرات کے نزدیک حدیث

  • فونٹ سائز:

    ب ب