کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 67

اور جس روایت میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے اس میں ان دونوں ہلکی اور افتتاحی رکعتوں کو بھی ملا لیا گیا ہے ۔ اس طرح ان دونوں روایتوں میں بلا تکلف تطبیق ہو جاتی ہے ۔ اس توجیہہ کی بابت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے وھذا ارجح فی نظری (میری نظر میں یہی راجح ہے ) ۔ گویا تہجد اور تراویح کی اصل رکعات آٹھ ہی ہیں ۔ دو خفیف رکعتیں مبادی سے ہیں ۔ ان کو شمار کیا جائے تو تیرہ رکعت ہوں گی ۔ ورنہ گیارہ ۔ چنانچہ مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں : قلت والذی یظهر للعبد الضعیف من مجموع الروایات والله اعلم ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یفتتح صلوٰته باللیل برکعتین خفیفتین وهما من مبادی التهجد ثم یصلی ثمان رکعات وهی اصل التهجد ثم یوتر بثلاث رکعات الخ (فتح الملهم جلد ثانی ص ۲۸۸)

  • فونٹ سائز:

    ب ب