کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 68

پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی شرح کے ذیل میں لکھتے ہیں : فالحاصل ان صلوة صلی اللہ علیہ وسلم باللیل کان ثلاث عشرة رکعة مع الرکعتین الخفیفتین اللتین کانتا من مبادی التهجد واحدی عشرة رکعة بدونها فاصل التهجد منها ثمان رکعات والوتر ثلاث وهذا العدد یوافق ما تقدم عن عائشة رضی الله عنها ولله الحمد انتهی (فتح الملهم جلد ثانی ص ۳۲۷) مولانا عثمانی نے اگرچہ یہ بات تہجد کے متعلق کہی ہے ، مگر یہاں تراویح کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کر دیا ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مذکور بالا دونوں توجیہیں بیان کرنے کے بعد ایک سوال اٹھایا ہے کہ وتر کے بعد جن دو رکعتوں کا ذکر بعض حدیثوں میں ہے ، آیا یہ کوئی مستقل نماز ہے یا اس سے فجر کی سنت مراد ہے ؟ شق اول کی تائید میں احمد و ابوداؤد کے حوالے سے حضرت عائشہ کی ایک حدیث نقل کی ہے جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع وتر ۷ ۔ ۹ ۔ ۱۱ ۔ ۱۳ رکعتیں پڑھتے تھے ۔ اس کے بعد بعض علماء کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ صلوٰۃ اللیل کی بابت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایات میں اضطراب ہے ۔ اسی قول کی تردید کرتے ہوئے حافظ نے کہا ہے : وهذا انما یتم لو کان الراوی عنها واحداً واخبرت عن وقت واحد والصواب ان کل شئ ذکرته من ذلك محمول علی اوقات متعددة واحوال مختلفة بحسب النشاط وبیان الجواز والله اعلم انتهی (فتح الباری ص ۱۶ ص ۳ ) ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب