کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 72

(رکعات ص = ) ج : ہم آپ کی ’’پہیلی بوجھ‘‘ رہے ہیں یہ بیس رکعت والی ضعیف روایت کو اصول محدثین میں گھسانے کے لئے ’’چور دروازہ‘‘ کی تلاش ہے ، لیکن ان نفوسِ قدسیہ کے یہاں چور دروازہ کہاں ۔ ہم تو اسی وقت آپ کا ’’مطلب‘‘ پا گئے تھے جب آپ نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ارجح اور انسب توجیہہ کو چھوڑ کر ضمنی توجیہہ کو اختیار کیا تھا ۔ حنفی مذہب کیسا یتیم مذہب ہے کہ اس غریب کا سہارا یا تو کوئی ضعیف حدیث ہے یا کوئی کمزور توجیہہ ۔ خیر ابھی تو آپ اشاروں ہی اشارے میں باتیں کر رہے ہیں جب کھل کر سامنے آئیں گے اس وقت ہم آپ کو بتائیں گے کہ غفلت اور بھول میں کون مبتلا ہے ؟ ۔ قولہ : ثالثاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا پہلا فقرہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’آپ رمضان و غیر رمضان میں گیارہ سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ‘‘ ۔ ذرا مبہم ہے … مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے دوسرے فقرے میں اس ابہام کو دور کر کے گیارہ سے زیادہ نہ پڑھنے کی ایک صورت متعین کر دی کہ نہ سات، نہ نو بلکہ گیارہ پڑھتے تھے اور یہ کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے ۔ نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی سن لیجئے کہ مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں اس بات کو بھی صاف کر دیا ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ پہلی چار چار رکعتیں ایک ایک سلام سے اور پچھلی تین رکعتیں ایک سلام سے تھیں (ملخصاً ص ۲۱)

  • فونٹ سائز:

    ب ب