کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 78

’’یعنی امام احمد بن حنبل نے فرمایا ہے کہ یہ اصحاب ابو حنیفہ صرف ڈھٹھائی کرتے ہیں ۔ ورنہ در حقیقت ان کو حدیث کے متعلق کچھ بھی بصیرت حاصل نہیں ہے ۔‘‘ آپ کو ابھی تک یہ تو پتہ ہی نہ چلا کہ محدثین نے اس حدیث کوجو غالب احوال اور اکثر اوقات پر محمول کیا ہے تو وہ ’’عدد‘‘ کے اعتبار سے ہے ، یا ’’ کیفیتِ ادا‘‘کے اعتبار سے ۔ کسی محدث ے یہ نہیں لکھا ہے کہ چار چار رکعتوں کو ایک سلام سے پڑھنا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثری عمل ہے بلکہ یہ لکھاہے کہ سات اور نو کے مقابلے میں گیارہ یا تیرہ رکعات پڑھنا یہ اکثری عمل ہے ۔ س الحمد للہ اہل حدیث کا بھی اکثری عمل یہی ہے ۔ ہماری بستی (املو ضلع اعظم گڈھ) آپ کے مئوسے دور نہیں ہے ۔ آگر گیارہ رکعت تراویح پڑھنے کا طریقہ سیکھ جائیے ۔ بشرط یہ کہ جذبہ اتباع سنت کی کچھ رمق باقی ہو ۔ قولہ : رابعاً امام محمد بن نصر مروزی نے اپنی کتاب قیام اللیل میں ایک باب کا عنوان یہ قرار دیا ہے : ’’باب عدد الرکعات التی یقوم بها الامام للناس فی رمضان ‘‘ اس باب میں وہ رکعاتِ تراویح کی تعداد بتانے کے لئے بہت سی روائتیں لائے ہیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کی بابت اشارہ تک نہیں کیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے علم و تحقیق میں بھی اس حدیث کا کوئی تعلق تراویح سے نہیں ہے (ص۱۱) ج : عنوان سے صاف ظاہر ہے کہ اس باب میں صرف ان روایتوں کا پیش کرنا مقصود ہے جن روایتوں میں امام اور مقتدی کا ذکر ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث (زیر بحث) میں اس کی تخصیص نہیں ہے ۔ اس لئے وہ اس باب میں کس طرح لائی جا سکتی ہے ؟ رہا یہ کہ امام مروزی کے علم و تحقیق میں تہجد فی رمضان اور تراویح دونوں ایک ہی ہیں ۔ یا الگ الگ ۔ تو اس کے لئے اسی کتاب میں باب ذکر من اختار الصلوٰة وحدة علی القیام مع الناس اذا کان حافظاً للقرآن

  • فونٹ سائز:

    ب ب