کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 80

تہجد اور تراویح کے فرق کی بحث حدیث عائشہ رضی اللہ عنہ پر ان اعتراضات سے فراغت کے بعد مولانا مئوی نے ایک ’’شبہ کا ازالہ‘‘ کے عنوان سے تہجد اور تراویح کے فرق پر بحث کی ہے اور اپنے زعم میںیہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تہجد اور تراویح بالکل الگ الگ دو نمازیں ہیں … لکھتے ہیں : قولہ : اگر کوئی کہے کہ تہجد اور تراویح میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ نماز ایک ہے ۔ نام دو ہیں ۔ اسی کو گیارہ مہینے تہجد کہتے ہیں اور اسی کو رمضان میں تراویح کے نام سے یاد کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ اس کی دلیل کیا ہے ؟ اور جب ان دونوں میں متعدد وجوہ مغائرت کے موجود ہیں تو ان دونوں کو ایک کہنا کیونکر ممکن ہے ؟ (رکعات ص ۳۲) ج : مولانا نے اپنی عادت کے مطابق اس موقع پر بھی کچھ مغالطے سے کام لیا ہے ۔ اہلحدیث یہ نہیں کہتے کہ تہجد اور تراویح میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ تہجد فی رمضان اور تراویح میں کوئی فرق نہیں ہے ، تفسیر ، حدیث ، فقہ ان سے سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ تہجد اور صلوٰۃ اللیل اور قیام اللیل یہ تینوں الفاظ ایک ہی نماز پر بولے جاتے ہیں ۔ (ملاحظہ ہو فتح القدیر جلد اول ص ۳۱۹ ، ۳۲۰ ، بحر الرائق ج ۲ ص ۵۲ طبع مصر ) ۔ لہذا رمضان و غیرہ رمضان کے اعتبار سے جس طرح صلوۃ اللیل اور قیام اللیل کی دو قسمیںیا دو صورتیں ہوں گی ۔ اسی طرح تہجد کی بھی ہوں گی ۔ ایک تہجد فی رمضان اور دوسری تہجد فی غیر رمضان ، تہجد فی رمضان ۔ یا یوں کہئے کہ صلوۃ اللیل اور قیام اللیل فی رمضان ، اسی کو تراویح بھی کہتے ہیں ۔ (بالفاظ دیگر)

  • فونٹ سائز:

    ب ب