کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 85

اور آخر شب میں پڑھی گئی تو اس کا نام تہجد ہوا اور جب دونوں کے اوصاف میں کچھ ا ختلاف بھی ہے تو اس لحاظ سے اگر اس کے دو نام بھی ہوں تو کیا تعجب ہے ؟ ہاں ! ان دونوں نمازوں کا متغائر النوع ہونا اس وقت ثابت ہوا گا جب یہ ثابت ہوجائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کے ساتھ تہجد بھی ادا فرمایا تھا ‘‘ ۔ اب مولانا مئوی کے پیش کردہ وجوہ مغائرت کے تفصیلی جوابات سنیے قولہ : مغائرت (دونوں کے دو ہونے) کے وجوہ متعدد ہیں ۔ ایک وجہ یہ ہے کہ تہجد کی مشروعیت بنص قرآن ہوئی ہے: فتهجد به نافلة اور : قم اللیل الا قلیلا ۔ وغیرہ کی تفسیر دیکھئے اور تراویح کی مسنونیت احادیث سے ہوئی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سننت لکم قیامہ (نسائی) یعنی میں نے رمضان کے قیام کو مسنون کیا ۔ (رکعات ص۲۳) ج : یہ استدلال علامہ مئوی کی قرآن فہمی اور حدیث فہمی دونوں کا ’’ شاہکار‘‘ ہے ۔ غور کیجئے ان دونوں آیتوں سے یہ تو ظاہر ہی ہے کہ تہجد اور قیام اللیل دونوں ایک ہی نماز کے نام ہیں ۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جس قیام اللیل کی مشروعیت نص قرآن سے ثابت ہو رہی ہے اس میں رمضان یا غیر رمضان کی کوئی قید نہیں ہے ۔ لہٰذا یہ نص قرآنی اپنے عموم و اطلاق کے اعتبار سے قیام اللیل فی رمضان اور قیام اللیل فی غیر رمضان دونوں کو شامل ہے ۔ اب حدیث کو دیکھئے اس میں باقرار علامہ مئوی ’’ قیامہ‘‘ سے مراد تراویح ہے گویا تراویح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام اللیل فی رمضان فرمایا ہے جب تراویح قیام اللیل فی رمضان ہے تو اب کون کہہ سکتا ہے کہ نص قرآن اس کو شامل نہیں ہے ؟ پس خود مولانا ہی کی دلیلوں سے ثابت ہو جاتا ہے کہ تراویح کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب