کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 86

مشروعیت بھی بنص قرآنی ہی ہوئی ہے ۔ اب رہا یہ شبہہ کہ پھر سننت لکم قیامہ میں اس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف کیوں فرمائی ہے ۔ تو یہ باعتبار مشروعیت کے نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ تو مسلم ہے کہ شارع حقیقتًا اللہ تعالیٰ ہی ہے بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ عام تہجد سے زیادہ خصوصیت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام رمضان (تراویح) کی طرف لوگوں کو توجہ اور شوق دلایا ہے اس کے فضائل اور برکات بیان کیے ہیں تعداد رکعات اور کیفیتِ ادا وغیرہ کی تفصیلات بتائی ہیں ۔ حدیث میں ہے : عن ابی هریرة قال کان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم یرغب فی قیام رمضان من غیر ان یامرهم فیه بعزیمة فیقول من قام رمضان ایمانا واحتسابا فغر له ما تقدم من ذنبه الحدیث (مسلم شریف جلد اول ص۲۵۹ ) اس مضمون کی بہت سی حدیثیں موجود ہیں ۔ لہٰذا اس دلیل سے تہجد او رتراویح کا دو جدا جدا نمازیں ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ علامہ مئوی کی اس دلیل کا مقتضا تو یہ ہے کہ قیام لیلۃ القدر کو بھی قیام رمضان سے الگ کوئی نماز قرار دیا جائے کیونکہ اس کی مشروعیت اور مسنونیت کا ذکرخصوصی طور پر قیام رمضان سے الگ کیا گیاہے ۔ حالانکہ یہ ہداہۃً باطل ہے پس جس طرح قیام لیلۃ القدر کا ذکر عام قیام رمضان سے الگ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی جدا نماز نہیں ہے اسی طرح قیام رمضان تراویح کا ذکر تہجد سے الگ ہونے کی وجہ سے کوئی جدا نماز نہیں ہے ۔ یہ جواب تو اس تقدیر پر ہے کہ : سننت لکم قیامه والی روایت کو صحیح تسلیم کیا جائے ورنہ حق تو یہ ہے کہ یہ روایت ہی صحیح نہیں ہے اس کا ایک راوی نضر بن شیبان بالکل ضعیف ہے تہذیب التہذیب میں ہے : نضر بن شیبان الحدانی روی عن ابی سلمة بن عبدالرحمن بن عوف عن ابیه فی فضل رمضان قال ابن ابی خیثمة عن ابن معین لیس حدیثه بشئ وقال البخاری فی حدیثه هٰذا لم یصح وقال النسائی لها اخرج حدیثه هٰذا خطاء ۔۔۔۔۔ وقد حزم جماعة من الائمة بان ابا سلمة لم یصح سماعه من ابیه تنضعیف النصر علی هٰذا متعین (ص۴۳۸ ج ۱۰)

  • فونٹ سائز:

    ب ب